(۱۵۶۹۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ بْنِ الْحَسَنِ الْفَقِیہُ بِبَغْدَادَ قَالَ قُرِئَ عَلَی مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَۃَ الْوَاسِطِیِّ وَأَنَا أَسْمَعُ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا بَہْزُ بْنُ حَکِیمِ بْنِ مُعَاوِیَۃَ الْقُشَیْرِیُّ حَدَّثَنِی أَبِی عَنْ أَبِیہِ قَالَ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ نِسَاؤُنَا مَا نَأْتِی مِنْہَا أَمْ مَا نَذَرُ؟ قَالَ : ائْتِ حَرْثَکَ أَنَّی شِئْتَ غَیْرَ أَنْ لاَ تَضْرِبَ الْوَجْہَ وَلاَ تُقَبِّحَ وَلاَ تَہْجُرَ إِلاَّ فِی الْبَیْتِ وَأَطْعِمْ إِذَا طَعِمْتَ وَاکْسُ إِذَا اکْتَسَیْتَ کَیْفَ وَقَدْ أَفْضَی بَعْضُکُمْ إِلَی بَعْضٍ ۔ [حسن]
(١٥٦٩٣) بھز بن حکیم بن معاویہ قشیری فرماتے ہیں : مجھے میرے والد نے اپنے والد سے حدیث بیان کی کہ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہماری بیویاں ہیں، ہم ان پر کیسے آئیں اور کیسے چھوڑیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو اپنی کھیتی کو جیسے چاہے آ اور تو اس کے چہرے پر نہ مار اور اس کی بےعزتی نہ کر اور تو اس کو نہ چھوڑ، مگر اپنے گھر میں اور جو تو خود کھائے اسے بھی وہی کھلا اور جب تو پہنے اسے بھی پہنا اور تمہارا ایک دوسرے کی طرف کیسے آتا ہے۔