(۱۵۷۰۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو مُحَمَّدٍ : دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ السِّجْزِیُّ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مِلْحَانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ عُقَیْلٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ أَنَّہُ قَالَ أَخْبَرَنِی مَالِکُ بْنُ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِطُولِہِ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِیمَا أَفَائَ اللَّہُ عَلَی رَسُولِہِ قَالَ فَکَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یُنْفِقُ عَلَی أَہْلِہِ نَفَقَۃَ سَنَتِہِمْ مِنْ ہَذَا الْمَالِ ثُمَّ یَأْخُذُ مَا بَقِیَ فَیَجْعَلُہُ مَجْعَلَ مَالِ اللَّہِ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ ابْنِ بُکَیْرٍ وَغَیْرِہِ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ مَعْمَرٍ وَغَیْرِہِ۔
(١٥٧٠١) عمر بن خطاب (رض) سے اس کے بارے میں منقول ہے جو اللہ نے اپنے رسول پر مال فیٔ کیا ہے۔ ، فرماتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس مال میں سے اپنے اہل پر خرچ کرتے ان کے سال کا خرچہ۔ پھر جو باقی ہوتا اس کو بیت المال میں شامل کردیتے۔
اس کو بخاری نے ابن بکیر اور اس کے علاوہ سے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے اور اس کو مسلم نے معمر اور اس کے علاوہ کی حدیث سے نکالا ہے۔