(۱۵۷۰۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ فِی آخَرِینَ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنْ أَبِی الزِّنَادِ قَالَ : سَأَلْتُ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ عَنِ الرَّجُلِ لاَ یَجِدُ مَا یُنْفِقُ عَلَی امْرَأَتِہِ۔ قَالَ : یُفَرَّقُ بَیْنَہُمَا ۔ قَالَ أَبُو الزِّنَادِ قُلْتُ : سُنَّۃٌ۔ قَالَ سَعِیدٌ : سُنَّۃٌ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ : وَالَّذِی یُشْبِہُ قَوْلَ سَعِیدٍ سُنَّۃٌ أَنْ تَکُونَ سُنَّۃً مِنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-۔ [صحیح]
(١٥٧٠٧) ابو زناد سے روایت ہے کہ میں نے سعید بن مسیب سے اس آدمی کے بارے میں سوال کیا جو اپنی بیوی کے لیے نہیں پاتا جو وہ اس پر خرچ کرے۔ کہا : ان دونوں کے درمیان جدائی کروائی جائے۔ ابو زناد کہتے ہیں : میں نے کہا : کیا یہ سنت ہے ؟ سعید فرماتے ہیں : یہ سنت ہے۔
امام شافعی فرماتے ہیں : وہ جو سعید کے قول کے مشابہ ہے یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت ہے۔