(۱۵۷۱۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیرٍ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی الْجَہْمِ قَالَ : جِئْتُ أَنَا وَأَبُو سَلَمَۃَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِلَی فَاطِمَۃَ بِنْتِ قَیْسٍ وَقَدْ أَخْرَجَتِ ابْنَۃَ أَخِیہَا طُہْرًا فَقُلْنَا لَہَا : مَا حَمَلَکِ عَلَی ہَذَا؟ قَالَتْ : کَانَ زَوْجِی بَعَثَ إِلَیَّ مَعَ عَیَّاشِ بْنِ أَبِی رَبِیعَۃَ بِطَلاَقِی ثَلاَثًا فِی غَزْوَۃِ نَجْرَانَ وَبَعَثَ إِلَیَّ بِخَمْسَۃِ آصُعٍ مِنْ شَعِیرٍ وَخَمْسَۃِ آصُعٍ مِنْ تَمْرٍ قَالَتْ فَقُلْتُ : أَمَا لِی نَفَقَۃٌ إِلاَّ ہَذَا؟ قَالَتْ : فَجَمَعْتُ عَلَیَّ ثِیَابِی فَأَتَیْتُ النَّبِیَّ -ﷺ- فَقَالَ : کَمْ طَلَّقَکِ؟۔ فَقُلْتُ: ثَلاَثًا۔ فَقَالَ : صَدَقَ لاَ نَفَقَۃَ لَکِ اعْتَدِّی فِی بَیْتِ ابْنِ أُمِّ مَکْتُومٍ تَضَعِینَ عَنْکِ ثِیَابَکِ ۔
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَہْدِیٍّ وَأَبِی عَاصِمٍ عَنْ سُفْیَانَ۔ وَرَوَاہُ شُعْبَۃَ عَنْ أَبِی بَکْرٍ فِی النَّفَقَۃِ وَالسُّکْنَی جَمِیعًا۔ [صحیح]
(١٥٧١٩) ابوبکر بن ابو جہم سے روایت ہے کہ میں اور ابو سلمہ بن عبدالرحمن فاطمہ بنت قیس کی طرف گئے اور اس نے اپنے بھائی کی بیٹی کو طہر میں نکالا تھا۔ ہم نے اس سے کہا : تجھے اس پر کس چیز نے ابھارا ؟ اس نے کہا : میرے خاوند نے نجران کے غزوہ میں میری طرف عیاش بن ابی ربیعہ کے ساتھ میری تیسری طلاق بھیجی ہے اور میری طرف پانچ صاع جو اور پانچ صاع کھجور بھیجی ہے۔ میں نے کہا میرے لیے صرف یہی خرچہ ہے۔ میں نے اپنے کپڑوں کو جمع کیا اور میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی۔ آپ نے فرمایا : کتنی طلاقیں اس نے تجھے دی ہیں ؟ میں نے کہا : تین۔ آپ نے فرمایا : اس نے سچ کہا ہے، تیرے لیے خرچہ نہیں ہے تو ابن ام مکتوم کے گھر عدت گزار تو اپنے کپڑے بھی اتارے کی۔
اس کو مسلم نے عبدالرحمن بن مہدی اور ابو عاصم کی حدیث سے سفیان سے اپنی صحیح میں نکالا ہے اور اس کو شعبہ نے ابوبکر سے خرچہ اور رہائش کے بارے میں اکٹھا روایت کیا ہے۔