(۱۵۷۲۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الأَسْفَاطِیُّ حَدَّثَنَا زُہَیْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ حَدَّثَنَا سَیَّارٌ وَحُصَیْنٌ وَمُغِیرَۃُ بْنُ مِقْسَمٍ وَأَشْعَثُ وَمُجَالِدٌ وَدَاوُدُ وَإِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی خَالِدٍ کُلُّہُمْ عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَی فَاطِمَۃَ بِنْتِ قَیْسٍ فَسَأَلْتُہَا عَنْ قَضَائِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- عَلَیْہَا فَقَالَتْ : طَلَّقَہَا زَوْجُہَا الْبَتَّۃَ قَالَتْ فَخَاصَمْتُہُ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی السُّکْنَی وَالنَّفَقَۃِ قَالَتْ فَلَمْ یَجْعَلْ لِی سُکْنَی وَلاَ نَفَقَۃً وَأَمَرَنِی أَنْ أَعْتَدَّ فِی بَیْتِ ابْنِ أُمِّ مَکْتُومٍ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ زُہَیْرِ بْنِ حَرْبٍ ہَکَذَا رِوَایَۃُ الْجَمَاعَۃِ عَنِ الشَّعْبِیِّ۔
وَفِی رِوَایَۃِ مُجَالِدٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ لَہَا : إِنَّمَا السُّکْنَی وَالنَّفَقَۃُ عَلَی مَنْ کَانَتْ لَہُ الْمُرَاجَعَۃُ۔ [صحیح]
(١٥٧٢٠) شعبی سے روایت ہے کہ میں فاطمہ بنت قیس پر داخل ہوا، میں نے اس سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس فیصلے کے بارے میں سوال کیا جو اس پر ہوا۔ وہ کہتی ہے : اسے اس کے خاوند نے طلاق بتہ دے دی۔ میں نے اس سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس رہائش اور خرچے کے بارے میں جھگڑا کیا ۔ آپ نے میرے لیے رہائش اور خرچہ مقرر نہیں کیا اور مجھے حکم دیا کہ میں ابن ام مکتوم کے گھر عدت گزاروں۔
شعبی سے منقول ہے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو فرمایا : رہائش اور خرچہ اس کے لیے ہے جس کے لیے رجوع ہو۔