(۱۵۷۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ: عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ عُمَرَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَلِیٍّ الذُّہْلِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا یَحْیَی بْنُ الْمُتَوَکِّلِ أَبُو عَقِیلٍ عَنْ بُہَیَّۃَ قَالَتْ: سَمِعْتُ امْرَأَۃً تَسْأَلُ عَائِشَۃَ یَعْنِی عَنْ سَبَبِ حَیْضِہَا لاَ تَدْرِی کَیْفَ تُصَلِّی فَقَالَتْ لَہَا عَائِشَۃُ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- لاِمْرَأَۃٍ فَسَدَ حَیْضُہَا وَأُہَرِیقَتْ دَمًا وَلاَ تَدْرِی کَیْفَ تُصَلِّی قَالَتْ: فَأَمَرَنِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَنْ آمُرَہَا فَلْتَنْظُرْ قَدْرَ مَا کَانَتْ تَحِیضُ فِی کُلِّ شَہْرٍ وَحَیْضُہَا مُسْتَقِیمٌ فَلْتَعُدَّ - وَفِی حَدِیثِ إِسْمَاعِیلَ: فَلْتَقْعُدْ وَتُقَدِّرْ - ذَلِکَ مِنَ الأَیَّامِ وَاللَّیَالِی ، ثُمَّ لْتَدَعِ الصَّلاَۃَ فِیہِنَّ بِقَدْرِہِنَّ ، ثُمَّ لْتَغْتَسِلْ وَتُحْسِنْ طُہْرَہَا ، ثُمَّ تَسْتَذْفِرْ بِثَوْبٍ ثُمَّ تُصَلِّی ، فَإِنِّی أَرْجُو أَنْ یَکُونَ ہَذَا مِنَ الشَّیْطَانِ ، وَأَنْ یُذْہِبَہَا اللَّہُ تَعَالَی عَنْہَا إِنْ شَائَ اللَّہُ تَعَالَی قَالَتْ فَأَمَرْتُہَا فَفَعَلَتْ فَأَذْہَبَہَا اللَّہُ عَنْہَا ، فَمُرِی صَاحِبَتَکِ بِذَلِکَ۔ لَفْظُ حَدِیثِ إِبْرَاہِیمَ بْنِ عَلِیٍّ۔
[منکر۔ أخرجہ أبو داؤد ۲۸۴]
(١٥٧٥) سیدہ بھیتہ سے روایت ہے کہ میں نے ایک عورت سے سنا جو عائشہ (رض) سے حیض کے متعلق سوال کر رہی تھی، وہ نہیں جانتی تھی کہ کس طرح نماز پڑھے۔ سیدہ عائشہ (رض) نے فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایک عورت کے متعلق سوال کیا اس کا حیض خراب ہوگیا اور وہ خون بہائے جا رہی ہے اور وہ نہیں جانتی تھی کیسے نماز پڑھے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے حکم دیا کہ میں اس کو کہوں کہ وہ انتظار کرے اتناجتنا وہ ہر ماہ میں حیض گزارتی تھی اور اس کا صحیح حیض یہی ہے، پھر وہ یہی عادت بنالے۔
اسماعیل کی حدیث میں ہے کہ وہ بیٹھے اور اپنے دنوں اور راتوں کا اندازہ لگالے اور نماز چھوڑ دے ، پھر غسل کرے اور اچھی طرح طہارت حاصل کرلے کرے، پھر کپڑے سیلنگوٹ باندھ لے، پھر نماز پڑھے۔ میں امید کرتا ہوں کہ یہ شیطان کی طرف سے ہے اور ان شاء اللہ ! اللہ تجھ سے لے جائے گا۔ فرماتی ہیں : میں نے اس کو حکم دیا، اس نے ایسے کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کی بیماری دور کر دیلہٰذا تو بھی اپنیسہیلیوں کو اس کا حکم دے۔