(۱۵۷۴) أَخْبَرَنَا أَبُوالْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا ابْنُ مِلْحَانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنِ ابْنِ أَبِی حَبِیبٍ عَنْ بُکَیْرِ بْنِ عَبْدِاللَّہِ عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ الْمُغِیرَۃِ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ أَنَّ فَاطِمَۃَ بِنْتَ أَبِی حُبَیْشٍ حَدَّثَتْہُ: أَنَّہَا أَتَتِ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَشَکَتْ إِلَیْہِ الدَّمَ ، فَقَالَ لَہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-: ((إِنَّمَا ذَلِکِ عِرْقٌ، فَانْظُرِی إِذَا أَتَاکِ قُرْؤُکِ فَلاَ تُصَلِّی، فَإِذَا مَرَّ الْقُرْئُ فَتَطَہَّرِی ثُمَّ صَلِّی مَا بَیْنَ الْقُرْئِ إِلَی الْقُرْئِ))۔
وَفِی ہَذَا مَا دَلَّ عَلَی أَنَّہُ لَمْ یَحْفَظْہُ وَہُوَ سَمَاعُ عُرْوَۃَ مِنْ فَاطِمَۃَ بِنْتِ أَبِی حُبَیْشٍ فَقَدْ بَیَّنَ ہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ أَنَّ أَبَاہُ إِنَّمَا سَمِعَ قِصَّۃَ فَاطِمَۃَ بِنْتِ أَبِی حُبَیْشٍ مِنْ عَائِشَۃَ ، وَرِوَایَتُہُ فِی الإِسْنَادِ وَالْمَتْنِ جَمِیعًا أَصَحُّ مِنْ رِوَایَۃِ الْمُنْذِرِ بْنِ الْمُغِیرَۃِ۔
قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَرَوَاہُ قَتَادَۃُ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ زَیْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَۃَ: أَنَّ أُمَّ حَبِیبَۃَ بِنْتَ جَحْشٍ اسْتُحِیضَتْ فَأَمَرَہَا النَّبِیُّ -ﷺ- أَنْ تَدَعَ الصَّلاَۃَ أَیَّامَ أَقْرَائِہَا ثُمَّ تَغْتَسِلُ وَتُصَلِّی۔
قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَقَتَادَۃُ لَمْ یَسْمَعْ مِنْ عُرْوَۃَ شَیْئًا ۔
قَالَ الشَّیْخُ: وَرِوَایَۃُ عِرَاکِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ فِی شَأْنِ أُمِّ حَبِیبَۃَ أَصَحُّ مِنْ ہَذِہِ الرِّوَایَۃِ۔
أَمَّا رِوَایَۃُ حَبِیبِ بْنِ أَبِی ثَابِتٍ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ فِی شَأْنِ فَاطِمَۃَ فَإِنَّہَا ضَعِیفَۃٌ وَسَیَرِدُ بَیَانُ ضَعْفِہَا إِنْ شَائَ اللَّہُ تَعَالَی۔ وَکَذَلِکَ حَدِیثُ عُثْمَانَ بْنِ سَعْدٍ الْکَاتِبِ عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ عَنْ فَاطِمَۃَ ضَعِیفٌ۔
[صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ ابو داؤد ۳۴۸۲]
(١٥٧٤) (الف) عروہ بن زبیر (رض) سے روایت ہے کہ فاطمہ بنت ابی حبیش (رض) نے ان سے بیان کیا، وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا طغری کے پاس آئی اور خون کی شکایت کی۔ ان سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” یہ ایک رگ ہے تو انتظار کر، جب تیرا حیض آئے تو نماز نہ پڑھ، جب حیض گزر جائے تو پاک ہوجا، پھر طہر سے طہر تک نماز ادا کر۔ “
(ب) اس حدیث میں اس بات پر دلالت ہے کہ اس نے یاد نہیں رکھا، حالانکہ عروہ کا سماع سیدہ فاطمہ بنت ابی حبیش (رض) سے ہے۔ ہشام بن عروہ نے وضاحت کی ہے کہ ان کے والد نے فاطمہ بنت ابی حبیش (رض) کا قصہ سیدہ عائشہ (رض) سے سنا، ان (کے والد) کی روایت متن اور سند کے اعتبار سے منذر بن مغیرہ کی روایت سے زیادہ صحیح ہے۔
(ج) امام ابوداؤد فرماتی ہیں : زینب بنت ام سلمہ (رض) سے روایت ہے ام حبیبہ بنت جحش (رض) استحاضہ والی تھیں، انھیں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا کہ اپنے حیض کے دنوں میں نماز چھوڑ دے، پھر غسل کر اور نماز پڑھ۔ امام ابوداؤد فرماتے ہیں کہ قتادہ کا عروہ سے سماع ثابت نہیں۔
(د) شیخ کہتے ہیں : عراک بن مالک کی روایت ام حبیبہ (رض) کے واقعہ کے متعلق جو عروہ عن عائشہ کی سند سے ہے، اس روایت سے زیادہ صحیح ہے۔ حبیب بن ابی ثابت کی روایت جو عروہ عن عائشہ فاطمہ بنت ابی حبیش (رض) کے متعلق ہے وہ ضعیف ہے، اس کا ضعف جلد آگے آ رہا ہے۔ اس طرح عثمان بن سعد بن کاتب کی حدیث جو ابن ابی ملیکہ عن فاطمہ سے ہے ، وہ بھی ضعیف ہے۔