hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 15849

.

سنن البيهقي

15849
Sunan Al Bayhaqi
(۱۵۸۴۳) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ رَحِمَہُ اللَّہُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ الأَنْصَارِیِّ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ بْنِ سَہْلِ بْنِ حُنَیْفٍ قَالَ : کُنَّا مَعَ عُثْمَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی الدَّارِ وَہُوَ مَحْصُورٌ وَکُنَّا نَدْخُلُ مُدْخَلاً نَسْمَعُ مِنْہُ کَلاَمَ مَنْ فِی الْبَلاَطِ فَدَخَلَ عُثْمَانُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ثُمَّ خَرَجَ مُتَغَیِّرَ اللَّوْنِ قِیلَ: یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ مَا شَأْنُکَ؟ قَالَ : إِنَّہُمْ لَیَتَوَاعَدُونِی بِالْقَتْلِ آنِفًا وَلَمْ أَسْتَیْقِنْ ذَلِکَ مِنْہُمْ حَتَّی کَانَ الْیَوْمُ۔فَقُلْنَا لَہُ یَکْفِیکَہُمُ اللَّہُ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ قَالَ وَبِمَ یَقْتُلُونَنِی وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : لاَ یَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلاَّ بِإِحْدَی ثَلاَثٍ رَجُلٌ کَفَرَ بَعْدَ إِسْلاَمِہِ أَوْ زَنَی بَعْدَ إِحْصَانِہِ أَوْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَیْرِ نَفْسٍ۔ فَوَاللَّہِ مَا زَنَیْتُ فِی جَاہِلِیَّۃٍ وَلاَ إِسْلاَمٍ قَطُّ وَلاَ أَحْبَبْتُ بِدِینِی بَدَلاً مُنْذُ ہَدَانِی اللَّہُ وَمَا قَتَلْتُ نَفْسًا عَلاَمَ یُرِیدُ ہَؤُلاَئِ قَتْلِی؟ [صحیح۔ متفق علیہ]
(١٥٨٤٣) ابو امامہ سہل بن حنیف فرماتے ہیں : ہم حضرت عثمان کے پاس تھے، جب ان کو ان کے گھر میں قید کردیا گیا تھا توہم ایسی جگہ داخل ہوئے جہاں سے ہم لوگوں کی آوازیں سن سکتے تھے۔ حضرت عثمان داخل ہوئے اور پھر نکلے۔ آپ کا رنگ تبدیل ہوا تھا۔ ہم نے پوچھا : اے امیر المؤمنین ! کیا بات ہے ؟ آپ نے فرمایا : لوگ مجھے قتل کرنے کا سوچ رہے ہیں، مجھے آج تک اس بات پر یقین نہیں تھا۔ ہم نے کہا : اے امیر المؤمنین ! اللہ آپ کی مدد کرے گا۔ پھر کہنے لگے : یہ لوگ مجھے کیوں قتل کرنا چاہتے ہیں حالانکہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سن رکھا ہے کہ کسی مسلمان کو صرف تین وجوہات کی بنا پر قتل کیا جاسکتا ہے : 1 مرتد ہوجائے 2 شادی کے بعد زنا کرے 3 قصاصاً قتل کیا جائے اور اللہ کی قسم ! میں نے تو قبل اسلام اور بعد اسلام کبھی زنا نہیں کیا اور اسلام کے بعد میں اسے چھوڑنے کا تصور بھی نہیں کرسکتا اور نہ ہی میں نے کسی کو قتل کیا ہے تو یہ مجھے کیوں قتل کرنا چاہتے ہیں۔