(۱۵۸۸۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْفَضْلِ الْعَسْقَلاَنِیُّ حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ عَنِ الرَّبِیعِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَبِی الْعَالِیَۃِ {فَمَنِ اعْتَدَی} فَقَتَلَ بَعْدَ أَخْذِ الدِّیَۃَ {فَلَہُ عَذَابٌ أَلِیمٌ ذَلِکَ تَخْفِیفٌ مِنْ رَبِّکُمْ وَرَحْمَۃٌ} یَقُولُ حِینَ أَطْعَمْتُمُ الدِّیَۃَ وَلَمْ تَحِلَّ لأَہْلِ التَّوْرَاۃِ إِنَّمَا ہُوَ قِصَاصٌ أَوْ عَفْوٌ وَکَانَ أَہْلُ الإِنْجِیلِ إِنَّمَا ہُوَ عَفْوٌ لَیْسَ غَیْرُہُ فَجُعِلَ لِہَذِہِ الأُمَّۃِ الْقَوَدُ وَالدِّیَۃُ وَالْعَفْوُ {وَلَکُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیَاۃٌ} یَقُولُ جَعَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ الْقِصَاصَ حَیَاۃً لَکُمْ مِنْ رَجُلٍ یُرِیدُ أَنْ یَقْتُلَ فَیَمْنَعُہُ مِنْہُ مَخَافَۃَ أَنْ یُقْتَلَ۔ [حسن]
(١٥٨٨١) ربیع بن انس ابو العالیہ سے روایت کرتے ہیں کہ { فَمَنِ اعْتَدَی } [البقرۃ ١٧٨] یعنی دیت لینے کے بعد قتل کرنا۔ { فَلَہُ عَذَابٌ أَلِیمٌ ذَلِکَ تَخْفِیفٌ مِنْ رَبِّکُمْ وَرَحْمَۃٌ} [البقرۃ ١٧٨] اس کا معنیٰ ہے کہ یہودیوں کے لیے قتل کی صورت میں دیت نہیں تھی یا عفو تھا یا قصاص اور اہل انجیل (عیسائیوں) کے لیے صرف عفو تھا جبکہ اس امت کو اللہ نے تینوں سہولتیں دی ہیں۔ چاہو قصاصاً قتل کرو چاہو دیت لے لو چاہو معاف کر دو ۔ { وَلَکُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیَاۃٌ}” تمہارے لیے قصاص میں زندگی ہے “ [البقرۃ ١٧٩] یعنی اللہ نے قصاص کو زندگی بنایا، وہ ایسے کہ اگر کوئی قصاصاً قتل کردیا جائے تو دوسرے اس سے عبرت پکڑیں گے۔