(۱۵۸۸۳) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَنْصَارِیُّ عَنْ حُمَیْدٍ عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ الرُّبَیِّعَ بِنْتَ النَّضْرِ کَسَرَتْ ثَنِیَّۃَ جَارِیَۃٍ فَعَرَضُوا عَلَیْہِمُ الأَرْشَ فَأَبَوْا وَعَرَضُوا عَلَیْہِمُ الْعَفْوَ فَأَبَوْا فَأَتَوُا النَّبِیَّ -ﷺ- فَأَمَرَ بِالْقِصَاصِ فَجَائَ أَخُوہَا أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَتُکْسَرُ ثَنِیَّۃُ الرُّبَیِّعِ لاَ وَالَّذِی بَعَثَکَ بِالْحَقِّ لاَ تُکْسَرُ ثَنِیَّتُہَا فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : یَا أَنَسُ کِتَابُ اللَّہِ الْقِصَاصُ ۔ قَالَ فَرَضِیَ الْقَوْمُ وَعَفَوْا فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللَّہِ مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَی اللَّہِ لأَبَرَّہُ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الأَنْصَارِیِّ۔ وَقَدْ مَضَی حَدِیثُ ابْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- : لاَ یَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلاَّ بِإِحْدَی ثَلاَثٍ فَذَکَرَ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ۔ [صحیح]
(١٥٨٨٣) انس فرماتے ہیں کہ ربیع بنت نضر نے ایک لڑکی کے سامنے والے دانت توڑ دیے تو وہ کہنے لگی : تم بھی کوئی زخم پہنچا دو یا معاف کردو۔ انھوں نے انکار کیا اور فیصلہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آگیا تو آپ نے قصاص کا حکم دے دیا۔ اتنے میں ان کے بھائی انس بن نضر آگئے اور کہنے لگے : اے اللہ کے رسول ! کیا ربیع کے بھی دانت توڑے جائیں گے ؟ اللہ کی قسم ! ایسا نہیں ہوسکتا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے انس ! اللہ کا فیصلہ ہے کہ قصاص ہوگا۔ اتنے میں مدعی عفو پر راضی ہوگئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کے کتنے ہی بندے ایسے ہیں کہ اگر وہ اللہ پر قسم اٹھالیں تو اللہ ان کی قسم کو پورا فرما دیتے ہیں۔