(۱۵۸۹۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ : حَمْزَۃُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ دَنُوقَا حَدَّثَنَا زَکَرِیِّا بْنُ عَدِیٍّ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ عَنْ شَبِیبِ بْنِ غَرْقَدَۃَ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الأَحْوَصِ عَنْ أَبِیہِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ فِی حَجَّۃِ الْوَدَاعِ : أَیُّ یَوْمٍ أَعْظَمُ حُرْمَۃً؟ ۔ قَالُوا : یَوْمُنَا ہَذَا أَوْ یَوْمُ الْحَجِّ الأَکْبَرِ۔ قَالَ : فَإِنَّ دِمَائَ کُمْ وَأَمْوَالَکُمْ وَأَعْرَاضَکُمْ حَرَامٌ کَحُرْمَۃِ یَوْمِکُمْ وَبَلَدِکُمْ أَلاَ لاَ یَجْنِی جَانٍ إِلاَّ عَلَی نَفْسِہِ لاَ یَجْنِی وَالِدٌ عَلَی وَلَدِہِ وَلاَ مَوْلُودٌ عَلَی وَالِدِہِ ۔ [صحیح لغیرہ]
(١٥٨٩٩) سلیمان بن عمرو بن احوص اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے حجۃ الوداع کے موقع پر فرماتے ہوئے سنا : ” کون سا دن حرمت کے لحاظ سے سب سے عظیم ہے ؟ “ تو لوگوں نے کہا : آج کا دن، حج اکبر کا دن۔ فرمایا : تمہارا مال تمہاری عزتیں تمہارا خون حرام ہے جیسے یہ شہر اور یہ دن حرمت والا ہے۔ کوئی کسی پر زیادتی نہیں کرے گا، نہ بچہ والد کے کیے کو بھگتے گا اور نہ والد بچے کا بوجھ اٹھائے گا۔