(۱۵۹۲۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ السُّلَمِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْکَارِزِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ قَالَ قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ سَلاَمٍ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِی یَحْیَی یُحَدِّثُہُ عَنِ ابْنِ الْمُنْکَدِرِ وَسَمِعْتُ أَبَا یُوسُفَ یُحَدِّثُہُ عَنْ رَبِیعَۃَ الرَّأْیِ کِلاَہُمَا عَنِ ابْنِ الْبَیْلَمَانِیِّ ثُمَّ بَلَغَنِی عَنِ ابْنِ أَبِی یَحْیَی أَنَّہُ قَالَ أَنَا حَدَّثْتُ رَبِیعَۃَ بِہَذَا الْحَدِیثِ فَإِنَّمَا دَارَ الْحَدِیثُ عَلَی ابْنِ أَبِی یَحْیَی عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَیْلَمَانِیِّ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- أَقَادَ مُسْلِمًا بِمُعَاہِدٍ وَقَالَ : أَنَا أَحَقُّ مَنْ وَفَی بِذِمَّتِہِ ۔ قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ وَہَذَا حَدِیثٌ لَیْسَ بِمُسْنَدٍ وَلاَ یُجْعَلُ مِثْلُہُ إِمَامًا یُسْفَکُ بِہِ دِمَاء ُ الْمُسْلِمِینَ۔
قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ وَقَدْ أَخْبَرَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ زِیَادٍ قَالَ قُلْتُ لِزُفَرَ إِنَّکُمْ تَقُولُونَ إِنَّا نَدْرَأُ الْحَدَّ بِالشُّبُہَاتِ وَإِنَّکُمْ جِئْتُمْ إِلَی أَعْظَمِ الشُّبُہَاتِ فَأَقْدَمْتُمْ عَلَیْہَا قَالَ وَمَا ہُوَ قَالَ قُلْتُ الْمُسْلِمُ یُقْتَلُ بِالْکَافِرِ قَالَ فَاشْہَدْ أَنْتَ عَلَی رُجُوعِی عَنْ ہَذَا۔ قَالَ وَکَذَلِکَ قَوْلُ أَہْلِ الْحِجَازِ لاَ یُقِیدُونَہُ بِہِ وَأَمَّا قَوْلُہُ وَلاَ ذُو عَہْدٍ فِی عَہْدِہِ فَإِنَّ ذَا الْعَہْدِ الرَّجُلُ مِنْ أَہْلِ دَارِ الْحَرْبِ یَدْخُلُ إِلَیْنَا بِأَمَانٍ فَقَتْلُہُ مُحَرَّمٌ عَلَی الْمُسْلِمِینَ حَتَّی یَرْجِعَ إِلَی مَأْمَنِہِ وَأَصْلُ ہَذَا مِنْ قَوْلِہِ {وَإِنْ أَحَدٌ مِنَ الْمُشْرِکِینَ اسْتَجَارَکَ فَأَجِرْہُ حَتَّی یَسْمَعَ کَلاَمَ اللَّہِ ثُمَّ أَبْلِغْہُ مَأْمَنَہُ} ۔ [ضعیف]
(١٥٩٢١) ابن بیلمانی روایت کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک مسلمان کو ذمی کے بدلے قتل کیا اور فرمایا : میں اپنے ذمہ کو پورا کرنے کا سب سے زیادہ حق دار ہوں۔
ابو عبید فرماتے ہیں کہ یہ حدیث مسند نہیں ہے اور ایسا امام تو بنانا بھی نہیں چاہیے جو مسلمانوں کا خون بہائے۔ ابو عبید فرماتے ہیں : مجھے عبدالرحمن بن مہدی نے جو عبدالواحد بن زیاد کے واسطے سے بیان کیا کہ میں نے زفر کو کہا کہ تم یہ کہتے ہو کہ ہم شبہات کی بنا پر حد کو ساقط کرتے ہیں اور حالانکہ سب سے بڑا شبہ تو تم خود لے کر آتے ہو۔ کہنے لگے : وہ کیا ہے ؟ میں نے کہا کہ مسلمان کو کافر کے بدلے قتل کیا جائے گا۔ تو امام زفر فرمانے لگے : آپ گواہ بن جاؤ میں اس سے رجوع کرتا ہوں۔ ابو عبید فرماتے ہیں کہ اہل حجاز کا بھی یہی موقف ہے کہ مسلم کو قتل نہیں کیا جائے گا۔ ” اور نہ عہد والا عہد میں “ یہ جو آپ کا قول ہے کہ دار حرب کا کوئی شخص جب مسلمانوں کے پاس آجائے تو جب تک وہ واپس نہ لوٹ جائے، اس وقت تک اسے بھی قتل نہیں کیا جائے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { وَ اِنْ اَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِکِیْنَ اسْتَجَارَکَ فَاَجِرْہُ حَتّٰی یَسْمَعَ کَلٰمَ اللّٰہِ ثُمَّ اَبْلِغْہُ مَاْمَنَہٗ } [التوبۃ ٦] یعنی ” اگر کوئی مشرک کسی سے پناہ مانگے تو اسے پناہ دو کہ وہ کلام اللہ کو سنے پھر اپنے پیچھے والوں کو پہنچائے۔