hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 15954

.

سنن البيهقي

15954
Sunan Al Bayhaqi
(۱۵۹۴۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ وَالْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ الشَّعْرَانِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ الْمِصْرِیُّ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ صَالِحٍ کَاتِبُ اللَّیْثِ حَدَّثَنِی اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ عِیسَی الْقُرَشِیِّ ثُمَّ الأَسَدِیِّ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِی رَبَاحٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : جَائَ تْ جَارِیَۃٌ إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَتْ إِنَّ سَیِّدِی اتَّہَمَنِی فَأَقْعَدَنِی عَلَی النَّارِ حَتَّی احْتَرَقَ فَرْجِی فَقَالَ لَہَا عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : ہَلْ رَأَی ذَلِکَ عَلَیْکِ؟ قَالَتْ : لاَ۔ قَالَ : فَہَلِ اعْتَرَفْتِ لَہُ بِشَیْئٍ ؟ قَالَتْ لاَ فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَلَیَّ بِہِ فَلَمَّا رَأَی عُمَرُ الرَّجُلَ قَالَ أَتُعَذِّبُ بِعَذَابِ اللَّہِ قَالَ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ اتَّہَمْتُہَا فِی نَفْسِہَا قَالَ رَأَیْتَ ذَلِکَ عَلَیْہَا قَالَ الرَّجُلُ : لاَ۔ قَالَ فَاعْتَرَفَتْ لَکَ بِہِ قَالَ : لاَ۔ قَالَ وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَوْ لَمْ أَسْمَعْ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : لاَ یُقَادُ مَمْلُوکٌ مِنْ مَالِکِہِ وَلاَ وَلَدٌ مِنْ وَالِدِہِ ۔ لأَقَدْتُہَا مِنْکَ فَبَرَّزَہُ وَضَرَبَہُ مِائَۃَ سَوْطٍ وَقَالَ لِلْجَارِیَۃِ : اذْہَبِی فَأَنْتِ حُرَّۃٌ لِوَجْہِ اللَّہِ وَأَنْتِ مَوْلاَۃُ اللَّہِ وَرَسُولِہِ۔ قَالَ أَبُو صَالِحٍ وَقَالَ اللَّیْثُ : وَہَذَا الْقَوْلُ مَعْمُولٌ بِہِ۔ [ضعیف]
(١٥٩٤٨) ابن عباس فرماتے ہیں کہ ایک لڑکی عمر (رض) کے پاس آئی اور کہنے لگی : میرے مالک نے مجھ پر تہمت لگائی اور مجھے آگ پر بٹھایا کہ جس سے میری شرم گاہ جل گئی ۔ عمر کہنے لگے کہ کیا اس نے تمہیں کچھ کرتے دیکھا تھا ؟ کہنے لگی : نہیں۔ پوچھا : کیا تو نے کوئی اعتراف کیا تھا ؟ کہنے لگی : نہیں۔ تو حضرت عمر نے فرمایا : اس کے مالک کو لے کر آؤ۔ جب وہ آیا تو حضرت عمر نے فرمایا کہ کیا تو اللہ کے عذاب کے ساتھ لوگوں کو عذاب دیتا ہے ؟ تو وہ شخص کہنے لگا : اے امیر المؤمنین ! اس پر بدکاری کا الزام تھا۔ پوچھا : کیا تو نے کچھ دیکھا تھا یا اس نے کچھ اعتراف کیا تھا ؟ کہنے لگا : نہیں تو حضرت عمر نے فرمایا : اللہ کی قسم ! اگر میں نے یہ حدیث نہ سنی ہوتی کہ غلام کے بدلے کسی آزاد سے قصاص نہیں لیا جائے گا تو میں تجھ سے قصاص لیتا۔ پھر حضرت عمر نے اسے ڈانٹا اور ١٠٠ سو کوڑے مارے اور لونڈی کو کہا کہ جا تو اللہ کی رضا کے لیے آزاد ہے تو اللہ اور اس کے رسول کی لونڈی ہے۔