(۱۵۹۴۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْد اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ قَالَ سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ بْنَ مُحَمَّدٍ یَقُولُ سَمِعْتُ یَحْیَی بْنَ مَعِینٍ یَقُولُ قَالَ أَبُو النَّضْرِ ہَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ عَنْ شُعْبَۃَ قَالَ لَمْ یَسْمَعِ الْحَسَنُ مِنْ سَمُرَۃَ۔ قَالَ وَسَمِعْتُ یَحْیَی بْنَ مَعِینٍ یَقُولُ لَمْ یَسْمَعِ الْحَسَنُ مِنْ سَمُرَۃَ شَیْئًا ہُوَ کِتَابٌ۔قَالَ یَحْیَی فِی حَدِیثِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَۃَ : مَنْ قَتَلَ عَبْدَہُ قَتَلْنَاہُ ذَاکَ فِی سَمَاعِ الْبَغْدَادِیِّینَ وَلَمْ یَسْمَعِ الْحَسَنُ مِنْ سَمُرَۃَ وَأَمَّا عَلِیُّ بْنُ الْمَدِینِیِّ فَکَان یُثْبِتُ سَمَاعَ الْحَسَنِ مِنْ سَمُرَۃَ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔
(١٥٩٤٧) شعبہ کہتے ہیں کہ سمرہ سے حسن نے یہ حدیث نہیں سنی اور یحییٰ بن معین کا بھی یہی موقف ہے اور علی بن مدینی فرماتے ہیں کہ سمرہ سے حسن کا سماع ثابت ہے۔
شعبہ، ابن معین کا قول صحیح اور ابن مدینی میں نظر ہے۔