(۱۵۹۶۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ فِی آخَرِینَ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ : أَنَّ رَجُلاً مِنْ بَنِی مُدْلِجٍ یُقَالُ لَہُ قَتَادَۃُ حَذَفَ ابْنَہُ بِسَیْفٍ فَأَصَابَ سَاقَہُ فَنُزِیَ فِی جُرْحِہِ فَمَاتَ فَقَدِمَ سُرَاقَۃُ بْنُ جُعْشُمٍ عَلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَذَکَرَ ذَلِکَ لَہُ فَقَالَ عُمَرُ اعْدُدْ لِی عَلَی قُدَیْدٍ عِشْرِینَ وَمِائَۃَ بَعِیرٍ حَتَّی أَقْدِمَ عَلَیْکَ فَلَمَّا قَدِمَ عُمَرُ أَخَذَ مِنْ تِلْکَ الإِبِلِ ثَلاَثِینَ حِقَّۃً وَثَلاَثِینَ جَذَعَۃً وَأَرْبَعِینَ خَلِفَۃً ثُمَّ قَالَ أَیْنَ أَخُ الْمَقْتُولِ؟ قَالَ ہَا أَنَا ذَا قَالَ خُذْہَا فَإِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : لَیْسَ لِقَاتِلٍ شَیْئٌ ۔ زَادَ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ فِی رِوَایَتِہِ قَالَ الشَّافِعِیُّ : وَقَدْ حَفِظْتُ عَنْ عَدَدٍ مِنْ أَہْلِ الْعِلْمِ لَقِیتُہُمْ أَنْ لاَ یُقْتَلَ الْوَالِدُ بِالْوَلَدِ وَبِذَلِکَ أَقُولُ۔
قَالَ الشَّیْخُ : ہَذَا الْحَدِیثُ مُنْقَطِعٌ فَأَکَّدَہُ الشَّافِعِیُّ بِأَنَّ عَدَدًا مِنْ أَہْلِ الْعِلْمِ یَقُولُ بِہِ وَقَدْ رُوِیَ مَوْصُولاً۔
[ضعیف]
(١٥٩٦٣) عمرو بن شعیب فرماتے ہیں : بنو مدلج کے ایک قتادہ نامی شخص نے اپنے بیٹے کو تلوار پھینک کر ماری وہ لگ گئی وہ زخمی ہوا اور مرگیا۔ سراقہ بن جعشم حضرت عمر کے پاس آئے تو حضرت عمر کو یہ قصہ بتایا۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ ١٢٠ اونٹ تیار کرو اور میرا انتظار کرو تو حضرت عمر آئے، ان اونٹوں میں ٣٠ حقے، ٣٠ جذعے اور ٤٠ خلفہ اونٹ لیے اور فرمایا : مقتول کا بھائی کہاں ہے ؟ تو اس نے کہا : میں یہاں ہوں۔ فرمایا : یہ لے لو۔ بیشک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قاتل کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ میں نے بہت سارے اہل علم سے سنا ہے کہ والد کو بیٹے کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا اور میں بھی یہی کہتا ہوں۔
شیخ (رح) فرماتے ہیں یہ روایت منقطع ہے اور امام شافعی (رح) نے جو بہت سارے علماء سے تاکید کی ہے وہ موصولاً ہے۔