hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 15970

.

سنن البيهقي

15970
Sunan Al Bayhaqi
(۱۵۹۶۴) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَحْمِشٍ الْفَقِیہُ مِنْ أَصْلِہِ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُعَاوِیَۃَ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ ابْنُ وَارَۃَ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ سَعِیدِ بْنِ سَابِقٍ حَدَّثَنَا عَمْرٌو یَعْنِی ابْنَ أَبِی قَیْسٍ عَنْ مَنْصُوٍر یَعْنِی ابْنَ الْمُعْتَمِرِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ : نَحَلْتُ لِرَجُلٍ مِنْ بَنِی مُدْلِجٍ جَارِیَۃً فَأَصَابَ مِنْہَا ابْنًا فَکَانَ یَسْتَخْدِمُہَا فَلَمَّا شَبَّ الْغُلاَمُ دَعَاہَا یَوْمًا فَقَالَ اصْنَعِی کَذَا وَکَذَا فَقَالَ لاَ تَأْتِیکَ حَتَّی مَتَی تَسْتَأْمِی أُمِّی قَالَ فَغَضِبَ فَحَذَفَہُ بِسَیْفِہِ فَأَصَابَ رِجْلَہُ فَنَزَفَ الْغُلاَمُ فَمَاتَ فَانْطَلَقَ فِی رَہْطٍ مِنْ قَوْمِہِ إِلَی عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ یَا عَدُوَّ نَفْسِہِ أَنْتَ الَّذِی قَتَلْتَ ابْنَکَ لَوْلاَ أَنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : لاَ یُقَادُ الأَبُ مِنِ ابْنِہِ ۔ لَقَتَلْتُکَ ہَلُمَّ دِیَتَہُ۔ قَالَ : فَأَتَاہُ بِعِشْرِینَ أَوْ ثَلاَثِینَ وَمِائَۃِ بَعِیرٍ قَالَ فَخَیَّرَ مِنْہَا مِائَۃً فَدَفَعَہَا إِلَی وَرَثَتِہِ وَتَرَکَ أَبَاہُ۔ وَرَوَاہُ حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاۃَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : حَضَرْتُ النَّبِیَّ -ﷺ- یُقِیدُ الاِبْنَ مِنْ أَبِیہِ وَلاَ یُقِیدُ الأَبَ مِنِ ابْنِہِ۔ [ضعیف]
(١٥٩٦٤) عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے بنو مدلج کے ایک شخص کو لونڈی دی، اس سے اس کا بیٹا بھی پیدا ہوا جب وہ بیٹا جوان ہوگیا تو اس شخص نے اسے کہا کہ فلاں فلاں میرا کام کرو، اس نے انکار کیا تو اس شخص نے غصے میں تلوار اسے پھینک کر ماری، جس سے وہ زخمی ہوگیا اور پھر اس زخم سے وہ مرگیا۔ اس کی قوم کے لوگ حضرت عمر کے پاس آئے اور سارا واقعہ سنایا تو حضرت عمر نے فرمایا : او اللہ کے دشمن ! تو نے اپنے بیٹے کو قتل کیا ہے۔ اگر میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نہ سنا ہوتا کہ باپ کو بیٹے کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا تو میں تجھے قتل کردیتا۔ لاؤ دیت دو تو وہ ١٢٠ یا ١٣٠ اونٹ لایا۔ حضرت عمر نے ان سے ١٠٠ اونٹ لے کر اس کے ورثاء کو دے دیے اور باپ کو کچھ نہ دیا۔
اور حضرت عمر (رض) یہ بھی فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فیصلہ تھا کہ بیٹے کو تو باپ کے بدلہ میں قتل کیا جائے گا باپ کو نہیں۔