(۱۵۹۸۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ أَخْبَرَنَا أَبُو عُمَرَ وَأَبُو سَلَمَۃَ قَالاَ حَدَّثَنَا ہَمَّامٌ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ جَارِیَۃً وَجَدُوا رَأْسَہَا بَیْنَ حَجَرَیْنِ فَقِیلَ لَہَا مَنْ فَعَلَ بِکِ ہَذَا أَفُلاَنٌ أَفُلاَنٌ حَتَّی سُمِّیَ الْیَہُودِیُّ فَأَوْمَتْ بِرَأْسِہَا فَأُخِذَ فَجِیئَ بِہِ فَاعْتَرَفَ فَأَمَرَ النَّبِیُّ -ﷺ- فَرُضَّ رَأْسُہُ بِحِجَارَۃٍ وَقَالَ أَبُو سَلَمَۃَ بَیْنَ حَجَرَیْنِ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ ہَدَّابِ بْنِ خَالِدٍ عَنْ ہَمَّامٍ۔ [صحیح]
(١٥٩٨٥) انس (رض) فرماتے ہیں کہ ایک بچی کا سر دو پتھروں کے درمیان کچلا ہوا پایا گیا تو اس سے پوچھا گیا کہ تیرے ساتھ یہ کس نے کیا ہے ؟ کیا فلاں فلاں نے کیا ہے ؟ یہاں تک کہ اس یہودی کا نام لیا گیا تو اس نے سر کے اشارہ سے اثبات میں جواب دیا۔ اس یہودی نے اس کا اعتراف کردیا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا کہ اس کا سر بھی پتھروں کے درمیان کچلا جائے تو کچل دیا گیا۔