(۱۶۰۲۵) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ قَالَ وَسَمِعْتُ حُیَیَّ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ الْمَعَافِرِیَّ یَقُولُ حَدَّثَنِی أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِیُّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ : أَنَّ أَبَا بَکْرٍ الصِّدِّیقَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَامَ یَوْمَ جُمُعَۃٍ فَقَالَ إِذَا کَانَ بِالْغَدَاۃِ فَأَحْضِرُوا صَدَقَاتِ الإِبِلِ تُقْسَمُ وَلاَ یَدْخُلُ عَلَیْنَا أَحَدٌ إِلاَّ بِإِذْنٍ فَقَالَتِ امْرَأَۃٌ لِزَوْجِہَا خُذْ ہَذَا الْخِطَامَ لَعَلَّ اللَّہَ یَرْزُقُنَا جَمَلاً فَأَبَی الرَّجُلُ فَوَجَدَ أَبَا بَکْر وَعُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَدْ دَخَلُوا إِلَی الإِبِلِ فَدَخَلَ مَعَہُمَا فَالْتَفَتَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ مَا أَدْخَلَکَ عَلَیْنَا ثُمَّ أَخَذَ مِنْہُ الْخِطَامَ فَضَرَبَہُ فَلَمَّا فَرَغَ أَبُو بَکْرٍ مِنْ قَسْمِ الإِبِلِ دَعَا بِالرَّجُلِ فَأَعْطَاہُ الْخِطَامَ وَقَالَ اسْتَقِدْ فَقَالَ لَہُ عُمَرُ وَاللَّہِ لاَ یَسْتَقِیدُ لاَ تَجْعَلْہَا سُنَّۃً قَالَ أَبُو بَکْرٍ : فَمَنْ لِی مِنَ اللَّہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ؟ فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَرْضِہِ۔ فَأَمَرَ أَبُو بَکْرٍ الصِّدِّیقُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ غُلاَمَہُ أَنْ یَأْتِیَہُ بِرَاحِلَتِہِ وَرَحْلِہَا وَقَطِیفَۃٍ وَخَمْسَۃِ دَنَانِیرَ فَأَرْضَاہُ بِہَا۔ [ضعیف]
(١٦٠٢٥) عبداللہ بن عمرو بن عاص فرماتے ہیں کہ جمعہ کے دن حضرت ابوبکر فرمانے لگے کہ کل صدقہ کے اونٹ لے آنا تاکہ انھیں تقسیم کردیا جائے اور بغیر اجازت ہمارے پاس کوئی نہ آئے۔ تو ایک عورت نے اپنے خاوند کو کہا کہ یہ لگام لو شاید کل اللہ ہمیں بھی کوئی اونٹ عطا فرما دے تو آدمی نے انکار کردیا۔ جب دوسرے دن حضرت ابوبکر اور عمر کو اس شخص نے اونٹوں کے پاس داخل ہوتے دیکھا تو یہ بھی داخل ہوگیا۔ حضرت ابوبکر اس کی طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا : تم کیوں آئے ہو ؟ اور اس سے لگام لے کر اسے مارا۔ جب ابوبکر اونٹوں کی تقسیم سے فارغ ہوگئے تو اس شخص کو بلایا اور اسے لگام دے کر فرمایا : قصاص لے لو۔ حضرت عمر فرمانے لگے : آپ اسے سنت نہ بنائیں تو آپ نے فرمایا : کل قیامت کے دن اللہ سے کون بچائے گا ؟ حضرت عمر فرمانے لگے کہ دیت پر راضی کرلو تو حضرت ابوبکر نے اپنے غلام کو حکم دیا کہ اسے اپنی اور آپ کی سواری بھی دے دے۔ ایک چادر اور پانچ دینار بھی دے دے تو وہ شخص اس پر راضی ہوگیا۔