(۱۶۰۲۲) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ مُوسَی عَنْ بُکَیْرِ بْنِ مَعْرُوفٍ عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَیَّانَ قَالَ مُقَاتِلٌ أَخَذْتُ ہَذَا التَّفْسِیرَ عَنْ نَفَرٍ حَفِظَ مُعَاذٌ مِنْہُمْ مُجَاہِدًا وَالْحَسَنَ وَالضَّحَّاکَ بْنَ مُزَاحِمٍ فِی قَوْلِہِ {فَمَنْ عُفِیَ لَہُ مِنْ أَخِیہِ شَیْئٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ} الآیَۃُ قَالَ کَانَ کُتِبَ عَلَی أَہْلِ التَّوْرَاۃِ مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَیْرِ نَفْسٍ حُقَّ أَنْ یُقَادَ بِہَا وَلاَ یُعْفَی عَنْہُ وَلاَ تُقْبَلَ مِنْہُ الدِّیَۃُ وَفُرِضَ عَلَی أَہْلِ الإِنْجِیلِ أَنْ یُعْفَی عَنْہُ وَلاَ یُقْتَلَ وَرُخِّصَ لأُمَّۃِ مُحَمَّدٍ -ﷺ- إِنْ شَائَ قَتَلَ وَإِنْ شَائَ أَخَذَ الدِّیَۃَ وَإِنْ شَائَ عَفَا فَذَلِکَ قَوْلُہُ {ذَلِکَ تَخْفِیفٌ مِنْ رَبِّکُمْ وَرَحْمَۃٌ} یَقُولُ الدِّیَۃُ تَخْفِیفٌ مِنَ اللَّہِ إِذْ جَعَلَ الدِّیَۃَ وَلاَ یُقْتَلُ ثُمَّ قَالَ {فَمَنِ اعْتَدَی بَعْدَ ذَلِکَ فَلَہُ عَذَابٌ أَلِیمٌ} یَقُولُ مَنْ قَتَلَ بَعْدَ أَخْذِہِ الدِّیَۃَ فَلَہُ عَذَابٌ أَلِیمٌ وَقَالَ فِی قَوْلِہِ {وَلَکُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیَاۃٌ} یَقُولُ لَکُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیَاۃٌ یَنْتَہِی بِہَا بَعْضُکُمْ عَنْ بَعْضٍ أَنْ یُصِیبَ مَخَافَۃَ أَنْ یُقْتَلَ۔ [حسن]
(١٦٠٣٢) مقاتل بن حبان فرماتے ہیں کہ میں نے یہ تفسیر ان بہت سارے مفسرین سے سنی جنہوں نے حضرت معاذ سے حفظ کی۔ ان میں مجاہد، حسن اور ضحاک بن مزاحم ہیں۔ اس آیت کے بارے میں فرماتے ہیں :{ فَمَنْ عُفِیَ لَہٗ مِنْ اَخِیْہِ شَیْئٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوْفِ } [البقرۃ ١٧٨] اہلِ توراۃ پر قصاص ہی تھا، معافی یا دیت نہیں اور اصل انجیل پر قصاص اور معافی فرض کی گئی۔ امت محمدیہ پر یہ رخصت دی گئی کہ وہ چاہیں تو قتل کردیں، چاہیں دیت لے لیں، چاہیں تو معاف کردیں اور یہ اللہ کے اس فرمان میں ہے : { ذٰلِکَ تَخْفِیْفٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَ رَحْمَۃٌ} [البقرۃ ١٧٨]” یہ تمہارے رب کی طرف سے تمہارے لیے تخفیف اور رحمت ہے۔ “ دیت کو اللہ نے تخفیف بنادیا اور دیت کے بعد اسے قتل نہیں کیا جاسکتا اور پھر فرمایا : { فَمَنِ اعْتَدٰی بَعْدَ ذٰلِکَ فَلَہٗ عَذَابٌ اَلِیْم } [البقرۃ ١٧٨] ” جس نے دیت لینے کے بعد بھی قتل کردیا تو اس کے لیے عذاب الیم ہے “ اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان : { وَ لَکُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوۃٌ} [البقرۃ ١٧٩]” تمہارے لیے قصاص میں زندگی ہے “ یعنی کوئی شخص کسی کو قتل نہیں کرے گا کہ جب اسے پتہ ہوگا کہ بدلے میں مجھے بھی قتل کردیا جائے گا۔