(۱۶۰۲۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ وَأَبُو مُحَمَّدٍ الْکَعْبِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ بُکَیْرِ بْنِ مَعْرُوفٍ عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَیَّانَ فِی قَوْلِہِ {فَمَنْ عُفِیَ لَہُ مِنْ أَخِیہِ شَیْئٌ} یَقُولُ إِذَا قَتَلَ رَجُلٌ بَعَمْدٍ فَعَفَا عَنْہُ وَلِیُّ الْمَقْتُولِ وَلَمْ یَقْتَصَّ مِنْہُ وَقَبِلَ الدِّیَۃَ {فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ} یَقُولُ لِیُحْسِنِ الطَّلَبَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَی الْمَطْلُوبِ فَقَالَ {وَأَدَائٌ إِلَیْہِ بِإِحْسَانٍ} یَقُولُ لِیُؤَدِّی الْمَطْلُوبُ إِلَی الطَّالِبِ الدِّیَۃَ بِإِحْسَانٍ قَالَ وَکَانَ کَتَبَ عَلَی أَہْلِ التَّوْارَۃِ فَذَکَرَہُ بِنَحْوٍ مِنْ رِوَایَۃِ الشَّافِعِیِّ وَقَالَ فِی قَوْلِہِ {فَمَنِ اعْتَدَی بَعْدَ ذَلِکَ فَلَہُ عَذَابٌ أَلِیمٌ} یَقُولُ مَنْ قَبِلَ الدِّیَۃَ ثُمَّ قَتَلَ {فَلَہُ عَذَابٌ أَلِیمٌ} یَقُولُ مُوجِعٌ وَذَلِکَ أَنَّ الرَّجُلَ کَانَ إِذَا قُتِلَ حَمِیمٌ لَہُ تَوَارَی الْقَاتِلُ فَیَقُولُ وَلِیُّ الْمَقْتُولِ إِنِّی أَقْبَلُ الدِّیَۃَ فَیَقْبَلُہَا حَتَّی یَرْجِعَ الْقَاتِلُ فَیَقْتُلُہُ وَلِیُّ الْمَقْتُولِ وَقَدْ قَبِلَ الدِّیَۃَ قَبْلَ ذَلِکَ وَکَانَ یَقُولُ إِنَّمَا قَبِلْتُ الدِّیَۃَ لِیَرْجِعَ الْقَاتِلُ فَأَقْتُلُہُ إِذَا ظَہَرَ یَقُولُ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ {فَمَنِ اعْتَدَی} فَقَتَلَ بَعْدَ أَخَذِہِ {فَلَہُ عَذَابٌ أَلِیمٌ}
[حسن]
(١٦٠٣٣) مقاتل بن حیان اللہ کے اس فرمان : { فَمَنِ اعْتَدٰی بَعْدَ ذٰلِکَ فَلَہٗ عَذَابٌ اَلِیْم } کے بارے میں فرماتے ہیں کہ جب کوئی کسی کو جان بوجھ کر قتل کر دے تو اسے قتل نہ کیا جائے بلکہ دیت لے لی جائے { فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوْفِ } [البقرۃ ١٧٨] کہ وہ اچھے طریقے سے دیت طلب کرے { وَ اَدَآئٌ اِلَیْہِ بِاِحْسَانٍ } [البقرۃ ١٧٨] دیت اچھے طریقے اور احسان سے ادا کر دے فرمایا کہ اہل التورۃ پر قصاص ہی فرض تھا۔ پھر مکمل سابقہ حدیث بیان فرمائی۔
امام شافعی (رح) { فَمَنِ اعْتَدٰی بَعْدَ ذٰلِکَ فَلَہٗ عَذَابٌ اَلِیْم } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ جو دیت بھی لے لے اور قتل بھی کر دے تو اس کے لیے یہ عذاب ہے کہ اگر کوئی کسی کو قتل کر دے اور قاتل مقتول کے ولیوں سے بات کر کے انھیں دیت پر راضی کرلے، جب وہ دیت دینے آئے تو ولی المقتول اسے قتل کر دے اور کہے کہ میں نے دیت اس لیے قبول کی تھی کہ یہ میرے پاس آجائے تاکہ میں اسے قتل کر دوں تو یہ ہے : { فَمَنِ اعْتَدٰی بَعْدَ ذٰلِکَ فَلَہٗ عَذَابٌ اَلِیْم } یعنی دیت کے قبول کرنے کے بعد۔