(۱۶۰۲۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِیُّ بِمَرْوٍ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَسْعُودٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا شَیْبَانُ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ أَخْبَرَنِی أَبُو سَلَمَۃَ أَنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ أَخْبَرَہُ : أَنَّ خُزَاعَۃَ قَتَلُوا رَجُلاً مِنْ بَنِی لَیْثٍ عَامَ فَتْحِ مَکَّۃَ بِقَتِیلٍ مِنْہُمْ قَتَلُوہُ فَأُخْبِرَ بِذَلِکَ رَسُولُ اللَّہَ -ﷺ- فَرَکِبَ رَاحِلَتَہُ فَخَطَبَ فَقَالَ : إِنَّ اللَّہَ حَبَسَ عَنْ مَکَّۃَ الْفِیلَ وَسَلَّطَ عَلَیْہَا رَسُولَہُ وَالْمُؤْمِنِینَ أَلاَ وَإِنَّہَا لَمْ تَحِلَّ لأَحَدٍ قَبْلِی وَلَنْ تَحِلَّ لأَحَدٍ بَعْدِی أَلاَ وَإِنَّہَا أُحِلَّتْ لِی سَاعَۃً مِنْ نَہَارٍ أَلاَ وَإِنَّہَا سَاعَتِی ہَذِہِ حَرَامٌ لاَ یُخْتَلَی شَوْکُہَا وَلاَ یُعْضَدُ شَجَرُہَا وَلاَ یَلْتَقِطُ سَاقِطَتَہَا إِلاَّ مُنْشِدٌ وَمَنْ قُتِلَ لَہُ قَتِیلٌ فَہُوَ بِخَیْرِ النَّظَرَیْنِ إِمَّا أَنْ یُعْطَی الدِّیَۃَ وَإِمَّا أَنْ یُقَادَ أَہْلُ الْقَتِیلِ ۔ قَالَ : فَجَائَ رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ الْیَمَنِ یُقَالُ لَہُ أَبُو شَاہٍ فَقَالَ : اکْتُبْ لِی یَا رَسُولَ اللَّہِ قَالَ اکْتُبُوا لأَبِی شَاہٍ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ قُرَیْشٍ إِلاَّ الإِذْخِرَ یَا رَسُولَ اللَّہِ فَإِنَّا نَجْعَلُہُ فِی بُیُوتِنَا وَقُبُورِنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : إِلاَّ الإِذْخِرَ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی نُعَیْمٍ عَنْ شَیْبَانَ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ : إِمَّا أَنْ یُودَی وَإِمَّا أَنْ یُقَادَ ثُمَّ قَالَ وَقَالَ عُبَیْدُ اللَّہِ : إِمَّا أَنْ یُقَادَ أَہْلُ الْقَتِیلِ ۔
وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مَنْصُورٍ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ۔ [صحیح]
(١٦٠٣٩) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ بنو خزاعہ نے بنو لیث کے ایک شخص کو فتح مکہ کے دن قصاصاً قتل کردیا جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کا پتہ چلا تو آپ سواری پر سوار ہوئے اور خطبہ ارشاد فرمایا : ” اللہ نے مکہ کو ہاتھیوں سے بچایا اور اپنے پیغمبر اور مؤمنوں کو اس کا وارث بنادیا سن لو مکہ نہ پہلے کسی لیے حلال تھا اور نہ کبھی ہوگا، ہاں میرے لیے دن کا کچھ حصہ اسے حلال کیا گیا ہے اور اب اس گھڑی پھر اس کی حرمت قائم و دائم ہے نہ کوئی اس کا کانٹا توڑے، نہ درخت اکھاڑے اور یہاں کی گری ہوئی (گمشدہ) چیز کوئی نہ اٹھائے علاوہ اس کے جو اعلان کرے اور جس کا کوئی قتل کردیا جائے تو وہ دو بہترین چیزوں میں اختیار کے ساتھ ہے چاہے دیت لے لے یا قصاص۔ ایک شخص اہل یمن سے ابو شاہ نامی آیا اور کہنے لگا : یہ چیزیں مجھے لکھ دو ، آپ نے فرمایا : ابو شاہ کو لکھ دو ۔ قریش کا ایک آدمی کہنے لگا : یا رسول اللہ ! اذخر گھاس کی اجازت تو دے دیں؛کیونکہ اسے ہم اپنے گھروں میں اور قبروں میں استعمال کرتے ہیں تو آپ نے فرمایا : چلو اذخر گھاس اکھاڑ سکتے ہو۔ “
اور صحیح بخاری میں ابو نعیم عن شیبان روایت کرتے ہیں کہ چاہے وہ ادائیگی کردے یا قصاص دے دے۔