hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 16057

.

سنن البيهقي

16057
Sunan Al Bayhaqi
(۱۶۰۵۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا تَمِیمُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِیُّ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا أَبُو یُونُسَ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ أَنَّ عَلْقَمَۃَ بْنَ وَائِلٍ حَدَّثَہُ أَنَّ أَبَاہُ حَدَّثَہُ قَالَ : إِنِّی لَقَاعِدٌ مَعَ النَّبِیِّ -ﷺ- إِذْ جَائَ رَجُلٌ یَقُودُ آخَرَ بِنِسْعَۃٍ فَقَالَ یَا رَسُولَ اللَّہِ ہَذَا قَتَلَ أَخِی فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : أَقَتَلْتَہُ ۔ فَقَالَ : إِنَّہُ لَوْ لَمْ یَعْتَرِفْ أَقَمْتُ عَلَیْہِ الْبَیِّنَۃَ قَالَ نَعَمْ قَتَلْتُہُ قَالَ : کَیْفَ قَتَلْتَہُ ۔ قَالَ کُنْتُ وَہُوَ نَخْتَبِطُ مِنْ شَجَرَۃٍ فَسَبَّنِی فَأَغْضَبَنِی فَضَرَبْتُہُ بِالْفَأْسِ عَلَی قَرْنِہِ فَقَتَلْتُہُ فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ -ﷺ- : ہَلْ لَکَ مِنْ شَیْئٍ تُؤَدِّیہِ عَنْ نَفْسِکَ؟ ۔ قَالَ : مَا لِی مَالٌ إِلاَّ کِسَائِی قَالَ : فَتَرَی قَوْمَکَ یَشْتَرُونَکَ؟ ۔ قَالَ أَنَا أَہْوَنُ عَلَی قَوْمِی مِنْ ذَلِکَ قَالَ فَرَمَی إِلَیْہِ بِنِسْعَتِہِ وَقَالَ دُونَکَ صَاحِبَکَ فَانْطَلَقَ بِہِ الرَّجُلُ فَلَمَّا وَلَّی قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : إِنْ قَتَلَہُ فَہُوَ مِثْلُہُ ۔ فَأَتَاہُ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَقَالَ وَیْلَکَ إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : إِنْ قَتَلَہُ فَہُوَ مِثْلُہُ ۔ فَرَجَعَ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ بَلَغَنِی أَنَّکَ قُلْتَ إِنْ قَتَلَہُ فَہُوَ مِثْلُہُ وَمَا أَخَذْتُہُ إِلاَّ بِأَمْرِکَ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : أَمَا تُرِیدُ أَنْ یَبُوئَ بِإِثْمِکَ وَإِثْمِ صَاحِبِکَ قَالَ بَلَی یَا نَبِیَّ اللَّہِ قَالَ : فَإِنَّ ذَاکَ کَذَاکَ قَالَ فَرَمَی بِنِسْعَتِہِ وَخَلَّی سَبِیلَہُ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِیِّ۔ [صحیح۔ مسلم]
(١٦٠٥١) علقمہ بن وائل فرماتے ہیں کہ انھیں ان کے والد نے بیان کیا کہ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص آیا جو دوسرے سے قصاص کا طالب تھا، وہ کہنے لگا : یا رسول اللہ ! اس نے میرے بھائی کو قتل کیا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تو نے اسے قتل کیا ہے ؟ اس نے کہا : اگر وہ اعتراف نہ کرے تو میں اس پر گواہ قائم کرتا ہوں۔ اس نے کہا : جی ہاں۔ پوچھا : کیسے قتل کیا ؟ تو جواب دیا کہ ہم دونوں درخت سے پتے جھاڑ رہے تھے کہ اس نے مجھے گالی دی، مجھے غصہ آیا میں نے اس کے سر پر ڈنڈا مارا اور وہ مرگیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تیرے پاس دیت دینے کے لیے کچھ ہے ؟ کہا : یہ میری چادر ہے۔ فرمایا : تیرا کیا خیال ہے کہ تیری قوم کے لوگ تجھے خرید لیں گے ؟ کہا : میں اپنی قوم پر اس سے بھی زیادہ حقیر ہوں۔ آپ نے اس کا تسمہ اس شخص کے ہاتھ میں پکڑایا اور فرمایا : لے جاؤ اسے اور قصاص لے لو، اس نے پکڑا اور چلا گیا تو آپ نے فرمایا : اگر اسے یہ قتل کر دے گا تو یہ بھی اس جیسا ہوگا۔ تو قوم کا ایک شخص اس سے ملا اور اسے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بات پہنچائی۔ وہ شخص پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آگیا اور کہنے لگا : یا رسول اللہ ! میں نے اسے آپ کے حکم سے پکڑا تھا اور اب آپ کی یہ بات پتہ چلی ہے تو فرمایا : ہاں کیا تو نہیں چاہتا کہ تیرے گناہ اور تیرے بھائی کے گناہ معاف کردیے جائیں ؟ کہنے لگا : کیوں نہیں اے اللہ کے نبی ! تو فرمایا : پھر ایسے ہی ہوگا تو اس شخص نے اسے چھوڑ دیا۔