(۱۶۰۵۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِیہُ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنِی أَبِی أَبُو أُوَیْسٍ حَدَّثَنِی ہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فِی حَدِیثِ الإِفْکِ قَالَتْ عَائِشَۃُ : وَقَعَدَ صَفْوَانُ بْنُ الْمُعَطَّلِ لِحَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ بِالسَّیْفِ فَضَرَبَہُ ضَرْبَۃً وَصَاحَ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ وَاسْتَغَاثَ النَّاسَ عَلَی صَفْوَانَ وَفَرَّ صَفْوَانُ وَجَائَ حَسَّانُ النَّبِیَّ -ﷺ- فَاسْتَعْدَاہُ عَلَی صَفْوَانَ فِی ضَرْبَتِہِ إِیَّاہُ فَسَأَلَہُ النَّبِیُّ -ﷺ- أَنْ یَہَبَ لَہُ ضَرْبَۃَ صَفْوَانَ إِیَّاہُ فَوَہَبَہَا لِلنَّبِیِّ -ﷺ- فَعَاضَہُ مِنْہَا حَائِطًا مِنْ نَخْلٍ عَظِیمٍ وَجَارِیَۃً رُومِیَّۃً وَیُقَالُ قِبْطِیَّۃً۔[ضعیف]
(١٦٠٥٧) حضرت عائشہ (رض) حدیث اِفک میں فرماتی ہیں کہ صفوان بن معطل نے حضرت حسان کو تلوار سے مارا ۔ حسان چیخے تو لوگ صفوان کو پکڑنے کے لیے آئے۔ صفوان بھاگ گئے۔ حسن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور صفوان سے بدلہ طلب کیا۔ تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت حسان کو فرمایا کہ صفوان کا بدلہ مجھے ہبہ کر دو تو انھوں نے ہبہ کردیا اور اس کے عوض آپ نے حسان کو ایک بڑے کھجور کے باغ کی دیوار اور ایک لونڈی دی جو رومی تھی اور کہا جاتا ہے کہ قبطی تھی۔