(۱۶۰۷۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ حَدَّثَنِی جَرِیرُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ سُلَیْمَانَ الأَعْمَشِ عَنْ زَیْدِ بْنِ وَہْبٍ الْجُہَنِیِّ : أَنَّ رَجُلاً قَتَلَ امْرَأَتَہُ اسْتَعْدَی ثَلاَثَۃُ إِخْوَۃٍ لَہَا عَلَیْہِ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَعَفَا أَحَدُہُمْ فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ لِلْبَاقِیَیْنِ خُذَا ثُلُثَیِ الدِّیَۃِ فَإِنَّہُ لاَ سَبِیلَ إِلَی قَتْلِہِ۔ [صحیح]
(١٦٠٧٣) زید بن وہب جہنی فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو قتل کردیا۔ عورت کے تین بھائیوں نے بدلہ طلب کیا تو حضرت عمر کے پاس فیصلہ آیا۔ ایک بھائی نے معاف کردیا تو آپ نے باقی دو کو بھی فرمایا : دیت لے لو اب قتل کی کوئی راہ نہیں ہے۔