(۱۶۰۷۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْجَہْمِ بْنِ ہَارُونَ السِّمَّرِیُّ حَدَّثَنَا ہَوْذَۃُ بْنُ خَلِیفَۃَ الْبَکْرَاوِیُّ حَدَّثَنَا عَوْفٌ عَنْ حَمْزَۃَ أَبِی عُمَرَ الْعَائِذِیِّ
(ح) وَحَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ وَاللَّفْظُ لَہُ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ یُوسُفَ الأَزْرَقُ حَدَّثَنَا عَوْفٌ الأَعْرَابِیُّ أَظُنُّہُ عَنْ حَمْزَۃَ الْعَائِذِیِّ عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ الْحَضْرَمِیِّ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : جِیئَ بِالْقَاتِلِ الَّذِی قَتَلَ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- جَائَ بِہِ وَلِیُّ الْمَقْتُولِ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : أَتَعْفُو؟ ۔ قَالَ : لاَ۔ قَالَ : أَتَأْخُذُ الدِّیَۃَ؟ ۔ قَالَ : لاَ۔ قَالَ : أَتَقْتُلُ؟ ۔ قَالَ : نَعَمْ۔ قَالَ : فَاذْہَبْ بِہِ فَلَمَّا ذَہَبَ دَعَاہُ فَقَالَ : أَمَا إِنَّکَ إِنْ عَفَوْتَ عَنْہُ فَإِنَّہُ یَبُوء ُ بِإِثْمِکَ وَإِثْمِ صَاحِبِکَ ۔ فَعَفَا عَنْہُ فَأَرْسَلَہُ قَالَ فَرَأَیْتُہُ وَہُوَ یَجُرُّ نِسْعَتَہُ۔ [ضعیف]
(١٦٠٧٥) وائل بن حجر حضرمی اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک قاتل رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لایا گیا۔ آپ نے ولی المقتول سے پوچھا : کیا تم اسے معاف کرتے ہو ؟ کہنے لگا : نہیں، پھر پوچھا : دیت پر راضی ہوتے ہو ؟ کہا : نہیں پوچھا : اسے قتل کرو گے ؟ کہا : ہاں۔ فرمایا : تو ٹھیک ہے اسے لے جاؤ۔ وہ اسے لے گیا، پھر آپ نے بلایا اور فرمایا : اگر تو اسے معاف کر دے تو تیرے اور مقتول کے گناہ اس پر ہوں گے تو اس نے اسے معاف کردیا۔ فرماتے ہیں کہ میں نے اسے دیکھا کہ وہ اپنے تسمے کو کھینچتے ہوئے جا رہا تھا۔