hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 16086

.

سنن البيهقي

16086
Sunan Al Bayhaqi
(۱۶۰۸۰) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْعَنَزِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ صَالِحٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِی قَوْلِہِ {فَمَنِ اعْتَدَی عَلَیْکُمْ فَاعْتَدُوا عَلَیْہِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَی عَلَیْکُمْ} وَقَوْلِہِ {وَلَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِہِ فَأُولَئِکَ مَا عَلَیْہِمْ مِنْ سَبِیلٍ} وَقَوْلِہِ {وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُمْ بِہِ} وَقَوْلِہِ {وَجَزَاء ُ سَیِّئَۃٍ سَیِّئَۃٌ مِثْلُہَا} فَہَذَا وَنَحْوُہُ نَزَلَ بِمَکَّۃَ وَالْمُسْلِمُونَ یَوْمَئِذٍ قَلِیلٌ لَیْسَ لَہُمْ سُلْطَانٌ یَقْہَرُ الْمُشْرِکِینَ وَکَانَ الْمُشْرِکُونَ یَتَعَاطَوْنَہُمْ بِالشَّتْمِ وَالأَذَی فَأَمَرَ اللَّہُ الْمُسْلِمِینَ مَنْ یُجَازَی مِنْہُمْ أَنْ یُجَازُوا بِمِثْلِ الَّذِی أُتِیَ إِلَیْہِ أَوْ یَصْبِرُوا وَیَعْفُوا فَہُوَ أَمْثَلُ فَلَمَّا ہَاجَرَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِلَی الْمَدِینَۃِ وَأَعَزَّ اللَّہُ سُلْطَانَہُ أَمَرَ الْمُسْلِمِینَ أَنْ یَنْتَہُوا فِی مَظَالِمِہِمْ إِلَی سُلْطَانِہِمْ وَلاَ یَعْدُو بَعْضُہُمْ عَلَی بَعْضٍ کَأَہْلِ الْجَاہِلِیَّۃِ فَقَالَ {وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُومًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّہِ سُلْطَانًا فَلاَ یُسْرِفْ فِی الْقَتْلِ إِنَّہُ کَانَ مَنْصُورًا} یَقُولُ یَنْصُرُہُ السُّلْطَانُ حَتَّی یُنْصِفَہُ مِنْ ظَالِمِہِ وَمَنِ انْتَصَرَ لِنَفْسِہِ دُونَ السُّلْطَانِ فَہُوَ عَاصٍ مُسْرِفٌ قَدْ عَمِلَ بَحَمِیَّۃِ الْجَاہِلِیَّۃِ وَلَمْ یَرْضَ بِحُکْمِ اللَّہِ۔ [ضعیف]
(١٦٠٨٠) عبداللہ بن عباس (رض) اللہ تعالیٰ کے اس فرمان : { فَمَنِ اعْتَدٰی عَلَیْکُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَیْہِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰی عَلَیْکُمْ } [البقرۃ ١٩٤] اور اس فرمان { وَلَمَنْ انتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِہِ فَاُوْلٰٓئِکَ مَا عَلَیْہِمْ مِّنْ سَبِیْلٍ } [الشوری ٤١] اور اللہ کا یہ فرمان : { وَ اِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِہٖ } [النحل ١٢٦] اور یہ فرمان : { وَجَزَآئُ سَیَِّٔۃٍ سَیَِّٔۃٌ مِّثْلُہَا } [الشوریٰ ٤٠] یہ آیت اور ان جیسی دوسری آیات کے بارے میں فرماتے ہیں کہ یہ مکہ میں نازل ہوئیں اور مکہ میں مسلمان تھوڑے تھے، ان کا کوئی امام نہیں تھا جو انھیں مشرکین کی تکالیف سے نجات دلاتا تو مسلمانوں کو بھی حکم تھا کہ مسرکین جیسی تکلیف تمہیں دیں ویسا بدلہ تم خود اسے دو یا صبر کرتے ہوئے درگزر کر دو تو یہ زیادہ بہتر ہے۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ میں ہجرت کی تو آپ کو اللہ نے بادشاہت کے ساتھ عزت بخشی تو مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ آپس کے معاملات اپنے بادشاہ کے سامنے لاؤ اور جاہلوں کی طرح ایک دوسرے کے دشمن نہ بنو، فرمایا : { وَ مَنْ قُتِلَ مَظْلُوْمًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّہٖ سُلْطٰنًا فَلَا یُسْرِفْ فِّی الْقَتْلِ اِنَّہٗ کَانَ مَنْصُوْرًا } [الاسراء ٣٣] سلطان اس کی مدد کرے، ظالم سے انصاف دلائے اور جو بادشاہ کے بغیر اپنا فیصلہ خود کرلے وہ نافرمان ہے، اسراف کرنے والا ہے اور جاہلیت کا کام کرنے والا ہے جو اللہ کے فیصلہ پر راضی نہ ہوا۔