(۱۶۰۸۱) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ طَہْمَانَ عَنْ جَابِرٍ عَنِ الْحَکَمِ قَالَ : کَتَبَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : لاَ یَؤُمَّنَّ أَحَدٌ جَالِسًا بَعْدَ النَّبِیِّ -ﷺ- وَعَمْدُ الصَّبِیِّ وَخَطَأُہُ سَوَائٌ فِیہِ الْکَفَّارَۃُ وَأَیُّمَا امْرَأَۃٍ تَزَوَّجَتْ عَبْدَہَا فَاجْلِدُوہَا الْحَدَّ۔
ہَذَا مُنْقَطِعٌ وَرَاوِیہِ جَابِرٌ الْجُعْفِیُّ۔ [ضعیف]
(١٦٠٨١) حکم فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے یہ فیصلہ کیا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد کوئی بھی بیٹھ کر امامت نہ کروائے اور بچے کا عمداً یا خطأ برابر ہے، اس میں کفارہ ہے اور جو بھی عورت اپنے غلام سے زنا کروائے تو اسے حداً کوڑے مارو۔
یہ منقطع ہے اور اس کی سند میں جابر جعفی ہے۔ اور یہ متروک ہے۔