(۱۶۰۹۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ صَالِحٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی قَوْلِہِ عَزَّ وَجَلَّ {النَّفْسُ بِالنَّفْسِ} قَالَ تُقْتَلُ النَّفْسُ بِالنَّفْسِ وَتُفْقَأُ الْعَیْنُ بِالْعَیْنِ وَیُقْطَعُ الأَنْفُ بِالأَنْفِ وَتُنْزَعُ السِّنُّ بِالسِّنِّ وَیُقْتَصُّ الْجِرَاحُ بِالْجِرَاحِ فَہَذَا یَسْتَوِی فِیہِ أَحْرَارُ الْمُسْلِمِینَ فِیمَا بَیْنَہُمْ رِجَالُہُمْ وَنِسَاؤُہُمْ فِیمَا بَیْنَہُمْ إِذَا کَانَ عَمْدًا فِی النَّفْسِ وَمَا دُونَ النَّفْسِ۔ [ضعیف]
(١٦٠٩٤) ابن عباس (رض) اللہ کے اس فرمان { النَّفْسُ بِالنَّفْسِ } کے بارے میں فرماتے ہیں کہ نفس کو نفس کے بدلے قتل کیا جائے گا، آنکھ آنکھ کے بدلے پھوڑی جائے گی، ناک ناک کے بدلے کاٹا جائے گا، دانت دانت کے بدلے اکھاڑا جائے گا، اور زخم کے بدلے زخم کا قصاص لیا جائے گا، ان اشیاء میں مسلمان، آزاد، مرد اور عورتیں تمام برابر ہیں جب یہ کام جان بوجھ کر کیے جائیں۔