(۱۶۰۹۵) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ مِنْ أَصْلِ کِتَابِہِ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ أُخْتَ الرُّبَیِّعِ أُمَّ حَارِثَۃَ جَرَحَتْ إِنْسَانًا فَاخْتَصَمُوا إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : الْقِصَاصَ الْقِصَاصَ ۔ فَقَالَتْ أُمُّ الرُّبَیِّعِ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَیُقْتَصُّ مِنْ فُلاَنَۃَ وَاللَّہِ لاَ یُقْتَصُّ مِنْہَا أَبَدًا۔ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : سُبْحَانَ اللَّہِ الْقِصَاصُ کِتَابُ اللَّہِ ۔ قَالَتْ : وَاللَّہِ لاَ یُقْتَصُّ مِنْہَا أَبَدًا قَالَ فَمَا زَالَتْ حَتَّی قَبِلُوا الدِّیَۃَ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللَّہِ مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَی اللَّہِ لأَبَرَّہُ ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ عَنْ عَفَّانَ۔ [صحیح۔ مسلم]
(١٦٠٩٥) انس (رض) فرماتے ہیں کہ ربیع کی بہن ام حارثہ نے ایک انسان کو زخمی کردیا۔ جھگڑا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آگیا تو آپ نے فیصلہ فرمایا کہ قصاص ہوگا۔ ام ربیع کہنے لگی : اے اللہ کے رسول ! کیا فلانہ سے بھی قصاص لیا جائے گا ؟ اللہ کی قسم ! ہرگز نہیں۔ تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کی کتاب میں قصاص ہی ہے۔ تو وہ کہنے لگی : اللہ کی قسم ! قصاص کبھی نہیں لیا جاسکتا، وہ ہمیشہ یہی کہتی رہی یہاں تک کہ وہ لوگ دیت پر راضی ہوگئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کے کتنے ہی ایسے بندے ہیں کہ اگر وہ اللہ پر قسم اٹھالیں تو اللہ ان کو بری کردیتے ہیں۔