(۱۶۰۹۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ : عُبْدُوسُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِیُّ حَدَّثَنَا الأَنْصَارِیُّ حَدَّثَنِی حُمَیْدٌ الطَّوِیلُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ : لَطَمَتِ الرُّبَیِّعُ بِنْتُ النَّضْرِ جَارِیَۃً فَکَسَرَتْ ثَنِیَّتَہَا فَطَلَبُوا إِلَیْہِمُ الْعَفْوَ فَأَبَوْا وَعَرَضُوا الأَرْشَ عَلَیْہِمْ فَأَبَوْا فَأَتَوُا النَّبِیَّ -ﷺ- فَأَمَرَ بِالْقِصَاصِ فَقَالَ أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَتُکْسَرُ ثَنِیَّۃُ الرُّبَیِّعِ وَالَّذِی بَعَثَکَ بِالْحَقِّ لاَ تُکْسَرُ ثَنِیَّتُہَا۔ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : یَا أَنَسُ کِتَابُ اللَّہِ الْقِصَاصُ ۔ فَرَضِیَ الْقَوْمُ فَعَفَوْا فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللَّہِ مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَی اللَّہِ لأَبَرَّہُ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الأَنْصَارِیِّ ظَاہِرُ الْخَبَرَیْنِ یَدُلُّ عَلَی کَوْنِہِمَا قِصَّتَیْنِ وَإِلاَّ فَثَابِتٌ أَحْفَظُ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
(١٦٠٩٦) حضرت انس فرماتے ہیں ربیع بنت نضر نے ایک لونڈی کو تھپڑ مارا اور اس کے ثنیہ دانت توڑ دیے، انھوں نے معافی مانگی لیکن انھوں نے انکار کردیا۔ انھوں نے دیت کی بات کی تو بھی انکار کردیا۔ فیصلہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا تو آپ نے قصاص کا حکم دے دیا۔ انس بن نضر کہنے لگے : اے اللہ کے رسول ! کیا ربیع کے بھی ثنیہ دانت توڑے جائیں گے ؟ قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ایسا نہیں ہوسکتا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے انس ! کتاب اللہ کا فیصلہ قصاص ہے۔ قوم دیت پر راضی ہوگئی تو آپ نے فرمایا : اللہ کے بندوں میں ایسے بھی ہیں کہ اگر وہ اللہ پر قسم اٹھالیں تو اللہ ان کی قسم پوری فرما دیتے ہیں۔