hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 16112

.

سنن البيهقي

16112
Sunan Al Bayhaqi
(۱۶۱۰۶) وَرَوَاہُ الْحُمَیْدِیُّ عَنْ سُفْیَانَ عَنِ ابْنِ أَخِی عَمْرٍو عَنْ عَمْرٍو أَخْبَرَنَاہُ أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا ابْنُ دُرُسْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا الْحُمَیْدِیُّ فَذَکَرَہُ قَالَ سُفْیَانُ فِی رِوَایَۃِ یَحْیَی اخْتَلَفَ فِیہِ ابْنُ شُبْرُمَۃَ وَابْنُ أَبِی لَیْلَی فَقَالَ ابْنُ شُبْرُمَۃَ : أَنَا أُقِیدُ۔ وَقَالَ ابْنُ أَبِی لَیْلَی : لاَ أَعْرِفُ لَعَلَّہَا تَکُونُ شَدِیدَۃً فَیُلْطَمَ دُونَہَا وَیَکُونُ دُونَہَا فَیُلْطَمَ أَشَدَّ مِنْہَا۔ قَالَ الشَّیْخُ : فُقَہَاء ُ الأَمْصَارِ عَلَی أَنْ لاَ قَوَدَ فِیہَا لِقَوْلِ اللَّہِ تَعَالَی {وَلَکُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیَاۃٌ} وَالْقِصَاصُ ہُوَ الْمُسَاوَاۃُ وَالْمُمَاثَلَۃُ وَاعْتِبَارُ الْمُسَاوَاۃِ فِی مَا بَیْنَ اللَّطْمَتَیْنِ مُتَعَذِّرٌ وَاللَّہُ أَعْلَمُ وَرُوِّینَا فِی بَابِ قَتْلِ الإِمَامِ وَجُرْحِہِ مَا یُوہِمُ وُجُوبَ الْقِصَاصِ فِی الضَّرْبِ بِالْخَشَبَۃِ وَالسَّوْطِ وَذَلِکَ مَحْمُولٌ عِنْدَہُمْ عَلَی حُصُولِ شَجَّۃٍ أَوْ جُرْحٍ بِہَا یُمْکِنُ اعْتِبَارُ الْمُمَاثَلَۃِ فِیہَا فَقَدْ رُوِیَ ذَلِکَ فِی بَعْضِ تِلْکَ الأَخْبَارِ أَوْ یَکُونُ مَحْمُولاً عَلَی أَنَّہُ رَأَی تَعْزِیرَہُ بِأَنْ یُفْعَلَ بِہِ مِنْ جِنْسِ فِعْلِہِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح]
(١٦١٠٦) سفیان بروایت یحییٰ کہتے ہیں کہ اس بارے میں ابن شبرمہ اور ابن ابی لیلیٰ کا اختلاف ہے، ابن شبرمہ کہتے ہیں : میں قصاص لوں گا اور ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں : میں نہیں جانتا۔ شاید کہ آپ اس میں سخت ہیں، اس کے علاوہ تھپڑ مارا جائے اور دوسرا پہلے سے بھی زیادہ سخت تھپڑ مار دے۔
شیخ فرماتے ہیں کہ فقہاء امصار فرماتے ہیں کہ اس میں قصاص نہیں ہے۔ اللہ کا فرمان ہے : { وَلَکُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیَاۃٌ} [البقرۃ ١٧٩] اور قصاص مساوات اور مماثلت کا نام ہے اور دو تھپڑوں میں مساوات ممکن نہیں۔ واللہ اعلم
اور اس باب کہ امام کا قتل یا زخمی کرنا کہ جس میں وجوب قصاص کا وہم ہو لکڑی یا کوڑے سے مارنے میں ہم روایت بیان کرچکے ہیں۔ ہم اس کو اس پر محمول کریں گے کہ یہ اس زخم میں ہے جس میں مماثلت کا اعتبار ممکن ہو اور بعض احادیث میں بھی یہ بات آتی ہے یا ہم اس کو اس بات پر محمول کریں گے کہ انھوں نے اس کی تقریر کی رائے یہ رکھی ہے کہ اس جیسا فعل کیا جائے۔ واللہ اعلم