(۱۶۱۴۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِہْرَجَانِیُّ الْعَدْلُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْعَبْدِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ : أَنَّ رَجُلاً مِنْ بَنِی مُدْلِجٍ یُقَالَ لَہُ قَتَادَۃُ حَذَفَ ابْنَہُ بِسَیْفٍ فَأَصَابَ سَاقَہُ فَنُزِیَ فِی جُرْحِہِ فَمَاتَ فَقَدِمَ سُرَاقَۃُ بْنُ جُعْشُمٍ عَلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَذَکَرَ ذَلِکَ لَہُ فَقَالَ لَہُ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ اعْدُدْ لِی عَلَی قُدَیْدٍ عِشْرِینَ وَمِائَۃَ بَعِیرٍ حَتَّی أَقْدَمَ عَلَیْکَ فَلَمَّا قَدِمَ عَلَیْہِ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَخَذَ مِنْ تِلْکَ الإِبِلِ ثَلاَثِینَ حِقَّۃً وَثَلاَثِینَ جَذَعَۃً وَأَرْبَعِینَ خَلِفَۃً ثُمَّ قَالَ أَیْنَ أَخُو الْمَقْتُولِ فَقَالَ ہَا أَنَا ذَا فَقَالَ خُذْہَا دِیَۃً فَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : لَیْسَ لِقَاتِلٍ شَیْئٌ۔ [ضعیف]
(١٦١٤١) عمرو بن شعیب فرماتے ہیں کہ بنو مدلج کا ایک شخص جس کا نام قتادہ تھا نے اپنے بیٹے کو تلوار سے مارا، وہ پنڈلی پر لگی، زخم گہرا تھا وہ مرگیا تو سراقہ بن جعشم حضرت عمر کے پاس آئے اور انھیں یہ واقعہ سنایا تو حضرت عمر نے فرمایا : ١٢٠ اونٹ لاؤ دیت کے لیے، وہ لائے۔ حضرت عمر نے ان اونٹوں میں سے ٣٠ حقے ٣٠ دذعے اور ٤٠ وہ جن کے پیٹوں میں اولاد تھی لیے اور پوچھا : مقتول کا بھائی کہاں ہے ؟ وہ کہنے لگا : میں ہوں تو فرمایا : دیت لے لو۔ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے کہ قاتل کے لیے کچھ نہیں ہے۔