(۱۶۱۶۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مُسْلِمٌ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ قَالَ قُلْتُ لِعَطَائٍ : الدِّیَۃُ الْمَاشِیَۃُ أَوِ الذَّہَبُ قَالَ کَانَتِ الإِبِلُ حَتَّی کَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَوَّمَ الإِبِلَ عِشْرِینَ وَمِائَۃٍ کُلَّ بَعِیرٍ فَإِنْ شَائَ الْقَرَوِیُّ أَعْطَی مِائَۃَ نَاقَۃٍ وَلَمْ یُعْطِ ذَہَبًا کَذَلِکَ الأَمْرُ الأَوَّلُ۔ [ضعیف]
(١٦١٦٩) ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عطاء سے پوچھا کہ دیت جانور ہیں یا سونا تو انھوں نے جواب دیا کہ دیت اونٹ ہی تھے، لیکن جب حضرت عمر کا دور آیا تو انھوں نے ہر اونٹ کے بدلے ١٢٠ کا اندازہ لگایا۔ اب اگر دیہاتی ١٠٠ اونٹ ادا کر دے اور سونا نہ دے تو یہ پہلے امر پر ہی ہے۔