(۱۶۱۷۰) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ الْحَارِثِ الأَصْبَہَانِیُّ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ أَبُو الشَّیْخِ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا شَیْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ مُوسَی عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یُقَوِّمُ دِیَۃَ الْخَطَإِ عَلَی أَہْلِ الْقُرَی أَرْبَعَمِائَۃِ دِینَارٍ أَوْ عِدْلَہَا مِنَ الْوَرِقِ وَیُقَوِّمُہَا عَلَی أَثْمَانِ الإِبِلِ فَإِذَا غَلَتْ رَفَعَ فِی قِیمَتِہَا وَإِذَا ہَانَتْ نَقَصَ مِنْ قِیمَتِہَا وَبَلَغَتْ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- مَا بَیْنَ أَرْبَعِمِائَۃٍ إِلَی ثَمَانِمِائَۃِ دِینَارٍ أَوْ عِدْلَہَا مِنَ الْوَرِقِ ثَمَانِیَۃَ آلاَفٍ وَقَضَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَلَی أَہْلِ الْبَقَرِ مِائَتَیْ بَقَرَۃٍ وَمَنْ کَانَ دِیَۃُ عَقْلِہِ فِی شَائٍ فَأَلْفَا شَاۃٍ۔ [حسن]
(١٦١٧٠) عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنیدادا سے نقل کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قتل خطاء میں اہل القریٰ پر ٤٠٠ دینار یا اس کے برابر چاندی دیت مقرر کرتے تھے، ٨٠ اونٹوں کا اندازہ لگاتے۔ اگر قیمت بڑھ جاتی تو بڑھا دیتے۔ اگر کم ہوتی تو کم کردیتے اور عہد رسالت میں قیمت ٤٠٠ دینار سے ٨٠٠ دینار تک گئی یا اس کے برابر چاندی یعنی ٨ ہزار تک اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گائے والوں پر ٢٠٠ گائے کا اور بکری والوں پر ١٠٠٠ بکریایوں فیصلہ فرمایا۔