(۱۶۲۱۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْکَارِزِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنَا أَبُو عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ عَنْ حُصَیْنٍ قَالَ قَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ : مَا دُونَ الْمُوضِحَۃِ خُدُوشٌ فِیہَا صُلْحٌ۔وَرَوَی ابْنُ عُلاَثَۃَ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ أَبِی عَبْلَۃَ : أَنَّ مُعَاذًا وَعُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا جَعَلاَ فِیمَا دُونِ الْمُوضِحَۃِ أَجْرَ الطَّبِیبِ۔
وَفِی حَدِیثِ ابْنِ غَنْمٍ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مَرْفُوعًا وَفِی الْمُوضِحَۃِ خَمْسٌ مِنَ الإِبِلِ وَکُلُّ شَیْئٍ کَانَ دُونَ ذَلِکَ فَعَلَی قَدْرِہِ۔ [ضعیف]
(١٦٢١٠) عمر بن عبدالعزیز فرماتے ہیں کہ جو زخم واضح نہ ہو مثلاًخراش وغیرہ ہو تو اس میں صلح ہے اور معاذ اور عمر (رض) نے غیر واضح زخم میں صرف طبیب کا خرچہ مقرر کیا۔
حضرت معاذ سے ایک مرفوع روایت بھی ہے کہ واضح زخم جس میں ہڈی ظاہر ہوجائے پانچ اونٹ ہیں اور اس سے کم زخم میں زخمی کرنے والے کی قدرت پر ہے۔