(۱۶۳۵) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ الأَصْبَہَانِیُّ قَالَ أَبُو یَعْلَی قُرِئَ عَلَی بِشْرِ بْنِ الْوَلِیدِ أَخْبَرَکَ أَبُو یُوسُفَ عَنْ أَبِی أَیُّوبَ الأَفْرِیقِیِّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِیلٍ عَنْ جَابِرٍ: أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- أَمَرَ الْمُسْتَحَاضَۃَ أَنْ تَوَضَّأَ لِکُلِّ صَلاَۃٍ۔
تَفَرَدَّ بِہِ أَبُو یُوسُفَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَلِیٍّ أَبِی أَیُّوبَ الأَفْرِیقِیِّ۔
وَأَبُو یُوسُفَ ثِقَۃٌ إِذَا کَانَ یَرْوِی عَنْ ثِقَۃٍ۔
وَفِیمَا أَجَازَ لِی أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ رِوَایَتَہُ عَنْہُ عَنْ أَبِی الْعَبَّاسِ عَنِ الرَّبِیعِ عَنِ الشَّافِعِیِّ أَنَّہُ قِیلَ لَہُ أَمَا إِنَّا رُوِّینَا أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- أَمَرَ الْمُسْتَحَاضَۃَ تَتَوَضَّأُ لِکُلِّ صَلاَۃٍ قَالَ الشَّافِعِیُّ قُلْتُ: نَعَمْ ، قَدْ رُوِّیتُمْ ذَلِکَ ، وَبِہِ نَقُولُ قِیَاسًا عَلَی سُنَّۃِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی الْوُضُوئِ مِمَّا خَرَجَ مِنْ دُبُرٍ أَوْ ذَکَرٍ أَوْ فَرْجٍ۔ قَالَ: وَلَوْ کَانَ ہَذَا مَحْفُوظًا عِنْدَنَا کَانَ أَحَبَّ إِلَیْنَا مِنَ الْقِیَاسِ۔ [صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ الطبرانی فی الاوسط ۱۵۹۷]
(١٦٣٥) (الف) سیدنا جابر (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے استحاضہ والی کو حکم دیا کہ ہر نماز کے لیے وضو کرے۔
(ب) ابو یوسف عبداللہ بن علی ابو ایوب افریقی سینقل کرنے میں متفرد ہے۔
(ج) ابو یوسف ثقہ ہے جب ثقہ سے نقل کرے۔
(د) امام شافعی (رح) سے روایت ہے کہ کہا گیا : ہم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مستحاضہ کو ہر نماز کے لیے وضو کا حکم دیا۔ میں نے کہا : میں کہتا ہوں : ہاں یہ تم روایت کرسکتے ہو۔ اسی طرح ہم اس کو نبی کی سنت جو وضو کے متعلق ہے کہ دبر، ذکر یا فرج سے کوئی چیز خارج ہو تو وضو ہے، ہم اس کو اس پر قیاس کریں گے۔ امام صاحب فرماتی ہیں کہ اگر یہ روایت محفوظ ہو تو ہمیں قیاس سے زیادہ پسند ہے۔