(۱۶۳۳۵) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْفَارِسِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ : إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَصْہَبَانِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَیْمَانَ بْنِ فَارِسٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الْبُخَارِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی غَنِیَّۃَ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ الْمُحْتَفِزِ الأَعْرَابِیِّ عَنِ الْکَاسِرِ : أَنَّہُ کَسَرَ سَاقَ رَجُلٍ فَقَضَی عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِثَمَانٍ مِنَ الإِبِلِ۔
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ اخْتِلاَفُ ہَذِہِ الرِّوَایَاتِ یَدُلُّ عَلَی أَنَّہُ قَضَی فِیہِ بِحُکُومَۃٍ بَلَغَتْ ہَذَا الْمِقْدَارَ۔ [ضعیف]
(١٦٣٣٥) اسحاق بنمحتفزدیہاتیکہتے ہیں کہ ایک شخص نے دوسرے کی پنڈلی توڑ دی تو حضرت عمر (رض) نے اس میں ٨ اونٹ دیت کا فیصلہ فرمایا۔
شیخ فرماتے ہیں کہ اس میں روایات مختلف ہیں اور انھوں نے یہ فیصلہ اپنی رائے سے کیا۔