(۱۶۳۳۶) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی عَبْدُ الْجَبَّارِ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ وَرَبِیعَۃَ وَابْنِ أَبِی فَرْوَۃَ عَنْ کِتَابِ مُعَاوِیَۃَ بْنِ أَبِی سُفْیَانَ وَکِتَابِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ وَیَقُولُونَ : لَمْ یَجْعَلْ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فِی کَسْرِ الْیَدِ فِی الْخَطَإِ إِلاَّ جُعْلَ الْجَابِرِ وَإِنْ ہِیَ اسْتَوَتْ وَفِیہَا عَثْمٌ أَوْ شَیْئٌ أُقِیمَتْ قِیمَۃً ثُمَّ غَرَّمَہَا الَّذِی کَسَرَہَا۔ [ضعیف]
(١٦٣٣٦) ابن شہاب، ربیعہ اور ابن ابی فروہ حضرت معاویہ اور عمر بن عبدالعزیز کی کتاب سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غلطی سے ہاتھ کے ٹوٹنے میں کوئی دیت مقرر نہیں کی۔ اگر وہ سیدھا ہی ہو تو اس میں کچھ فائدہ پہنچانا ہے یا کچھ قیمت مقرر کر کے اس کی چٹی توڑنے والے پر ہے۔