(۱۶۳۳۷) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ الرَّفَّاء ُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی أُوَیْسٍ وَعِیسَی بْنُ مِینَا قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی الزِّنَادِ أَنَّ أَبَاہُ قَالَ : کَانَ مَنْ أَدْرَکْتُ مِنْ فُقَہَائِنَا الَّذِینَ یُنْتَہَی إِلَی قَوْلِہِمْ یَقُولُونَ : کُلُّ عَظْمٍ کُسِرَ خَطَأً ثُمَّ جُبِرَ مُسْتَوِیًا غَیْرَ مَنْقُوصٍ وَلاَ مَعِیبٍ فَلَیْسَ فِی ذَلِکَ إِلاَّ عَطَاء ُ الْمُدَاوِی وَشِبْہُ ذَلِکَ فَإِنْ جُبِرَ شَیْئٌ مِنْ ذَلِکَ وَبِہِ عَیْبٌ أَوْ نَقْصٌ فَإِنَّہُ بِقَدْرِ شَیْنِ ذَلِکَ وَعَیْبِہِ یُقَیِّمُ ذَلِکَ أَہْلُ الْبَصَرِ وَالْعَقْلِ ثُمَّ یُعْقَلُ عَلَی قَدْرِ مَا یَرَوْنَ وَکَذَلِکَ قَالُوا فِی الشَّجَّۃِ الْمِلْطَائِ وَفِی کُلِّ جُرْحٍ فِی الْجَسَدِ إِذَا بَرَأَ وَلَیْسَ بِہِ عَیْبٌ لاَ یَرَوْنَ فِی ذَلِکَ إِلاَّ عَطَائَ الْمُدَاوِی وَشِبْہَ ذَلِکَ۔ [ضعیف]
(١٦٣٣٧) ابو زناد فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے وقت کے کبار فقہاء کرام سے سنا کہ ہر وہ ہڈی جو غلطی سے ٹوٹ جائے تو اسے جوڑا جائے اگر وہ سیدھی ہوجائے اور کوئی عیب نہ ہو تو مجرم پر صرف علاج کا خرچہ ہے۔ اگر جوڑنے کے بعد اس میں کوئی عیب یا نقص ہوجائے تو اس عیب کے مطابق اس پر دیت ہے، جو اہل عقل و بصیرت مقرر کریں گے۔ ایسے ہی ان کا اس زخم میں جو گہرا ہو اور جسم کے تمام زخموں کے بارے میں ہے کہ اگر وہ ٹھیک ہوجائیں اور کوئی عیب نہ ہو تو صرف علاج کے اخراجات اس کے ذمہ ہیں۔