(۱۶۴۲۱) قَالَ وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی یُونُسُ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ فِی امْرَأَۃٍ ضُرِبَتْ فَأَسْقَطَتْ ثَلاَثَۃً قَالَ ابْنُ شِہَابٍ : نَرَی فِی کُلِّ وَاحِدٍ مِنْہُمْ غُرَّۃً وَنَرَی فِی کُلِّ جَنِینٍ قَدْ تَبَیَّنَ أَنَّہُ حَبَلٌ غُرَّۃً۔
قَالَ یُونُسُ وَقَالَ ابْنُ شِہَابٍ فِی امْرَأَۃٍ حَامِلٍ ضَرَبَہَا رَجُلٌ فَمَاتَتْ وَہِیَ حَامِلٌ قَالَ فِیہَا دِیَۃُ الْمَرْأَۃِ وَلَیْسَ لَحَمْلِہَا مَعَہَا إِذَا ہَلَکَ بِہَلاَکِہَا دِیَۃٌ وَلاَ نَعْلَمُہُ سَبَقَ فِیہَا قَضَائٌ
وَقَالَ ذَلِکَ مَالِکٌ وَحَکَی ابْنُ الْمُنْذِرِ الْکَفَّارَۃَ فِی الْجَنِینِ عَنْ عَطَائٍ وَالْحَسَنِ وَالنَّخَعِیِّ۔ [صحیح۔ للزہری]
(١٦٤٢١) ابن شہاب کہتے ہیں کہ ایک عورت کو مارا گیا، اس کے پیٹ میں ٣ بچے تھے جو ساقط ہوگئے تو زہری کہتے ہیں کہ ہر ایک کے بدلے ہماری رائے کے مطابق جرمانہ ہے۔ یونس کہتے ہیں کہ ابن شہاب نے اس عورت کے بارے میں فرمایا کہ جس کو ایک شخص نے مارا، وہ مرگئی اور اس کا حمل بھی ضائع ہوگیا فرمایا : عورت کی تو دیت ہے، رہا بچہ تو وہ بھی عورت کے ساتھ تھا اس کی کوئی دیت ہمارے خیال میں نہیں ہے۔