(۱۶۴۲۲) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ الرَّفَّاء ُ أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی الزِّنَادِ عَنْ أَبِیہِ عَنِ الْفُقَہَائِ التَّابِعِینَ مِنْ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ کَانُوا یَقُولُونَ فِی الرَّجُلِ یَضْرِبُ الْمَرْأَۃَ فَتَطْرَحُ جَنِینَہَا : إِنْ سَقَطَ مَیِّتًا فَفِیہِ الْغُرَۃُ وَإِنْ سَقَطَ حَیًّا فَمَاتَ فَفِیہِ الدِّیَۃُ کَامِلَۃً۔ وَکَانُوا یَقُولُونَ : مَنْ قَتَلَ امْرَأَۃً حَامِلاً فَلاَ عَقْلَ لِمَا فِی بَطْنِہَا یَکُونُ عَقْلُ الْمَقْتُولَۃِ وَلاَ جَنِینَ فِی بَطْنِہَا۔ [ضعیف]
(١٦٤٢٢) ابوزناد فقہاء مدینہ تابعین سے نقل کرتے ہیں کہ وہ اس شخص کے بارے میں فرماتے ہیں جو مار کر عورت کا حمل ضائع کر دے۔ اگر وہ مردہ ہی ساقط ہوا ہے تو اس میں جرمانہ اور اگر زندہ ساقط ہوا ہے بعد میں مرا ہے تو مکمل دیت ہے اور وہ فرماتے تھے کہ جو حاملہ قتل کی جائے اور بچہ اس کے پیٹ ہی میں ہو تو صرف عورت کی دیت ہوگی بچے کی نہیں۔