(۱۶۴۵۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَتَبَ فِی قَتِیلٍ وُجِدَ بَیْنَ خَیْوَانَ وَوَادِعَۃَ أَنْ یُقَاسَ مَا بَیْنَ الْقَرْیَتَیْنِ فَإِلَی أَیِّہِمَا کَانَ أَقْرَبَ أُخْرِجَ إِلَیْہِ مِنْہُمْ خَمْسِینَ رَجُلاً حَتَّی یُوَافُونَہُ مَکَّۃَ فَأَدْخَلَہُمُ الْحِجْرَ فَأَحْلَفَہُمْ ثُمَّ قَضَی عَلَیْہِمْ بِالدِّیَۃِ فَقَالُوا مَاوَقَتْ أَمْوَالُنَا أَیْمَانَنَا وَلاَ أَیْمَانُنَا أَمْوَالَنَا قَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَذَلِکَ الأَمْرُ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ وَقَالَ غَیْرُ سُفْیَانَ عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : حَقَنْتُمْ بِأَیْمَانِکُمْ دِمَائَ کَمْ وَلاَ یُطَلُّ دَمُ مُسْلِمٍ۔ فَقَدْ ذَکَرَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ فِی الْجَوَابِ عَنْہُ مَا یُخَالِفُونَ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی ہَذِہِ الْقِصَّۃِ مِنَ الأَحْکَامِ ثُمَّ قِیلَ لَہُ : أَفَثَابِتٌ ہُوَ عِنْدَکَ؟ قَالَ : لاَ إِنَّمَا رَوَاہُ الشَّعْبِیُّ عَنِ الْحَارِثِ الأَعْوَرِ وَالْحَارِثُ مُجْہُولٌ وَنَحْنُ نُرَوَّی عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- بِالإِسْنَادِ الثَّابِتِ : أَنَّہُ بَدَأَ بِالْمُدَّعِینَ فَلَمَّا لَمْ یَحْلِفُوا قَالَ : فَتُبْرِئُکُمْ یَہُودُ بِخَمْسِینَ یَمِینًا۔ وَإِذْ قَالَ: تُبْرِئُکُمْ۔ فَلاَ یَکُونُ عَلَیْہِمْ غَرَامَۃٌ وَلَمَّا لَمْ یَقْبَلِ الأَنْصَارِیُّونَ أَیْمَانَہُمْ وَدَاہُ النَّبِیُّ -ﷺ- وَلَمْ یَجْعَلْ عَلَی یَہُودَ وَالْقَتِیلُ بَیْنَ أَظْہُرِہِمْ شَیْئًا۔
قَالَ الرَّبِیعُ أَخْبَرَنِی بَعْضُ أَہْلِ الْعِلْمِ عَنْ جَرِیرٍ عَنْ مُغِیرَۃَ عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ : حَارِثٌ الأَعْوَرُ کَانَ کَذَّابًا۔ وَرُوِیَ عَنْ مُجَالِدٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔ وَمُجَالِدٌ غَیْرُ مُحْتَجٍّ بِہِ۔ وَرُوِیَ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ الأَزْمَعِ عَنْ عُمَرَ۔ وَأَبُو إِسْحَاقَ لَمْ یَسْمَعْہُ مِنَ الْحَارِثِ بْنِ الأَزْمَعِ قَالَ عَلِیُّ بْنُ الْمَدِینِیِّ عَنْ أَبِی زَیْدٍ عَنْ شُعْبَۃَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ یُحَدِّثُ حَدِیثَ الْحَارِثِ بْنِ الأَزْمَعِ : أَنَّ قَتِیلاً وُجِدَ بَیْنَ وَادِعَۃَ وَخَیْوَانَ فَقُلْتُ یَا أَبَا إِسْحَاقَ مَنْ حَدَّثَکَ قَالَ حَدَّثَنِی مُجَالِدٌ عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ الأَزْمَعِ فَعَادَتْ رِوَایَۃُ أَبِی إِسْحَاقَ إِلَی حَدِیثِ مُجَالِدٍ وَاخْتُلِفَ فِیہِ عَلَی مُجَالِدٍ فِی إِسْنَادِہِ وَمُجَالِدٌ غَیْرُ مُحْتَجٍّ بِہِ فَاللَّہُ أَعْلَمُ۔
(١٦٤٥٠) شعبی حضرت عمر (رض) کے بارے میں فرماتے ہیں کہ انھیں ایک مقتول کے بارے میں لکھا گیا جو دو بستیوں کے درمیان میں ہوا۔ فرمایا : جس بستی کے وہ زیادہ قریب ہو اس کے ٥٠ آدمی آئیں اور وہ قسم اٹھائیں۔ پھر آپ نے ان پر دیت لگا دی، وہ کہنے لگے : ہماری قسموں نے نہ تو ہمارے مالوں کو بچایا اور نہ ہمارے مالوں نے ہماری قسموں کو تو حضرت عمر نے فرمایا : معاملہ کچھ ایسا ہی ہے۔ [ضعیف ]
امام شافعی فرماتے ہیں : سفیان کے علاوہ نے کہا کہ عاصم احول شعبی سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے فرمایا کہ تمہارے خون کو تمہاری قسموں نے بچا لیا لیکن میں ایک مسلمان کا خون باطل نہیں ہونے دوں گا۔ پھر امام شافعی نے ایک سوال کے جواب میں وہ مسائل ذکر کیے کہ جن کی حضرت عمر اس قصہ میں مخالفت کر رہے ہیں۔ پھر پوچھا گیا کہ کیا یہ قصہ آپ کے نزدیک ہے ؟ فرمایا : نہیں۔ شعبی اسے حارث اعور سے نقل کرتے ہیں اور حارث اعور مجہول ہے۔ صحیح اور ثالث سند سے یہ بات ثابت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہودیوں سے بھی قسم کا مطالبہ چاہا، لیکن انصاری نہ مانے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہودیوں پر نہیں بلکہ اپنی طرف سے دیت ادا کی تھی۔