hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 16457

.

سنن البيهقي

16457
Sunan Al Bayhaqi
(۱۶۴۵۱) وَأَمَّا الْحَدِیثُ الَّذِی أَخْبَرَنِی أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ قَالاَ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَکَرِیَّا حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَعْلَی عَنْ عُمَرَ بْنِ صُبْحٍ عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَیَّانَ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَیْمٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ أَنَّہُ قَالَ : لَمَّا حَجَّ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ حَجَّتَہُ الأَخِیرَۃَ الَّتِی لَمْ یَحُجَّ غَیْرَہَا غُودِرَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَ قَتِیلاً بِبَنِی وَادِعَۃَ فَبَعَثَ إِلَیْہِمْ عُمَرُ وَذَلِکَ بَعْدَ مَا قَضَی النُّسُکَ وَقَالَ لَہُمْ ہَلْ عَلِمْتُمْ لِہَذَا الْقَتِیلِ قَاتِلاً مِنْکُمْ قَالَ الْقَوْمُ لاَ فَاسْتَخْرَجَ مِنْہُمْ خَمْسِینَ شَیْخًا فَأَدْخَلَہُمُ الْحَطِیمَ فَاسْتَحْلَفَہُمْ بِاللَّہِ رَبِّ ہَذَا الْبَیْتِ الْحَرَامِ وَرَبِّ ہَذَا الْبَلَدِ الْحَرَامِ وَرَبِّ ہَذَا الشَّہْرِ الْحَرَامِ إِنَّکُمْ لَمْ تَقْتُلُوہُ وَلاَ عَلِمْتُمْ لَہُ قَاتِلاً فَحَلَفُوا بِذَلِکَ فَلَمَّا حَلَفُوا قَالَ أَدُّوا دِیَۃً مُغَلَّظَۃً فِی أَسْنَانِ الإِبِلِ أَوْ مِنَ الدَّنَانِیرِ وَالدَّرَاہِمِ دِیَۃً وَثُلُثًا فَقَالَ رَجُلٌ مِنْہُمْ یُقَالُ لَہُ سِنَانٌ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ أَمَا تُجْزِینِی یَمِینِی مِنْ مَالِی قَالَ لاَ إِنَّمَا قَضَیْتُ عَلَیْکُمْ بِقَضَائِ نَبِیِّکُمْ -ﷺ- فَأَخَذُوا دِیَتَہُ دَنَانِیرَ دِیَۃً وَثُلُثَ دِیَۃٍ۔ قَالَ عَلِیٌّ : عُمَرُ بْنُ صُبْحٍ مَتْرُوکُ الْحَدِیثِ۔ قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ رَفْعُہُ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- مُنْکَرٌ وَہُوَ مَعَ انْقِطَاعِہِ فِی رِوَایَۃِ مَنْ أَجْمَعُوا عَلَی تَرْکِہِ قَالَ الشَّافِعِیُّ: وَالْمُوتَصِلُ أَوْلَی أَنْ یُؤْخَذَ بِہِ مِنَ الْمُنْقَطِعِ وَالأَنْصَارِیُّونَ أَعْلَمُ بِحَدِیثِ صَاحِبِہِمْ مِنْ غَیْرِہِمْ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ وَیُرْوَی عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّہُ بَدَأَ الْمُدَّعَی عَلَیْہِمْ ثُمَّ رَدَّ الأَیْمَانَ عَلَی الْمُدَّعِینَ۔ [ضعیف]
(١٦٤٥١) ابن المسیب فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمر نے آخری حج کیا تو مسلمانوں کا ایک آدمی بنو وداعہ کے پاس قتل ہوگیا۔ حضرت عمر (رض) نے ان کی طرف ایک شخص بھیجا تھا کہ قربانی کرنے کے بعد ان سے پوچھیں کہ کیا وہ قاتل کے بارے میں کچھ جانتے ہیں۔ قوم نے انکار کیا تو ان سے ٥٠ معتبر لوگ قسم کے لیے نکالے گئے اور حطیم میں کھڑا کرکے ان الفاظ سے قسم لی کہ میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں جو اس گھر کا رب ہے اس عزت والے شہر اور حرمت والے مہینے کا رب ہے کیا تم اس قتل کے بارے میں کچھ جانتے ہو ؟ انھوں نے قسم اٹھا دی تو حضرت عمر (رض) نے ان پر دیت مغلظہ لگا دی۔ دیت اور ثلث زائد۔ ایک شخص کہنے لگا : جس کا نام سنان تھا : اے امیر المومنین ! کیا ہماری قسمیں ہمارے مال سے کفایت نہیں کریں گی ؟ فرمایا : نہیں میں نے تم میں اللہ کے نبی والا فیصلہ کیا ہے۔
علی کہتے ہیں : عمر بن صبح اس کی سند میں متروک الحدیث ہے۔