(۱۶۴۷۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوَّابِ حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَیْقٍ حَدَّثَنَا عَطَاء ُ بْنُ السَّائِبِ عَنْ أَبِی یَحْیَی عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِی قَوْلِہِ عَزَّ وَجَلَّ {وَإِنْ کَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَکُمْ وَہُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِیرُ رَقَبَۃٍ مُؤْمِنَۃٍ} قَالَ : کَانَ الرَّجُلُ یَأْتِی رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَیُسْلِمُ ثُمَّ یَرْجِعُ إِلَی قَوْمِہِ فَیَکُونُ فِیہِمْ وَہُمْ مُشْرِکُونَ فَیُصِیبُہُ الْمُسْلِمُونَ خَطَأً فِی سَرِیَّۃٍ أَوْ غَزَاۃٍ فَیُعْتِقُ الرَّجُلُ رَقَبَۃً {وَإِنْ کَانَ مِنْ قَوْمٍ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَہُمْ مِیثَاقٌ فَدِیَۃٌ مُسَلَّمَۃٌ إِلَی أَہْلِہِ وَتَحْرِیرُ رَقَبَۃٍ مُؤْمِنَۃٍ} قَالَ : یَکُونُ الرَّجُلُ مُعَاہَدًا وَقَوْمُہُ أَہْلَ عَہْدٍ فَیُسْلَمُ إِلَیْہِمْ دِیَتُہُ وَأَعْتَقَ الَّذِی أَصَابَہُ رَقَبَۃً۔
وَفِی تَفْسِیرِ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ بِنَحْوٍ مِنْ ہَذَا الْمَعْنَی قَالَ وَإِنْ کَانَ فِی أَہْلِ الْحَرْبِ وَہُوَ مُؤْمِنٌ فَقَتَلَہُ خَطَأً فَعَلَی قَاتِلِہِ أَنْ یُکَفِّرَ وَلاَ دِیَۃَ عَلَیْہِ۔ [ضعیف]
(١٦٤٧٤) ابن عباس (رض) سے منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان { فَاِنْ کَانَ مِنْ قَوْمٍ } [النساء ٩٢] فرماتے ہیں کہ کوئی آدمی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آتا مسلمان ہو کر اپنی قوم میں واپس چلا جاتا۔ پھر مسلمان اگر اس کی مشرک قوم پر حملہ کرتے تو وہ بھی اگر مارا جاتا تو اس کے بدلے کفارے کے طور پر ایک غلام آزاد کردیتے اور یہ فرمان { فَاِنْ کَانَ مِنْ قَوْمٍ بَیْنَکُمْ } الی { رَقَبَۃٍ مُّؤْمِنَۃٍ } [النساء ٩٢] کہ جب کسی ایسی قوم کا آدمی ہوتا جن سے معاہدہ ہوتا تو انھیں دیت بھی دی جاتی اور گردن بھی آزاد کی جاتی۔