(۱۶۴۷۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ حَدَّثَنَا الْفَارَیَابِیُّ حَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ عَنْ ہِشَامٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : ہُزِمَ الْمُشْرِکُونَ یَوْمَ أُحُدٍ ہَزِیمَۃً تُعْرَفُ فِیہِمْ فَصَرَخَ إِبْلِیسُ أَیْ عِبَادَ اللَّہِ أُخْرَاکُمْ فَرَجَعَتْ أُولاَہُمْ فَاجْتَلَدَتْ ہِیَ وَأُخْرَاہُمْ فَنَظَرَ حُذَیْفَۃُ بْنُ الْیَمَانِ فَإِذَا ہُوَ بِأَبِیہِ فَقَالَ أَبِی أَبِی فَوَاللَّہِ مَا انْحَجَزُوا عَنْہُ حَتَّی قَتَلُوہُ فَقَالَ حُذَیْفَۃُ غَفَرَ اللَّہُ لَکُمْ قَالَ عُرْوَۃُ فَوَاللَّہِ مَا زَالَتْ فِی حُذَیْفَۃَ بَقِیَّۃُ خَیْرٍ حَتَّی لَقِیَ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ فَرْوَۃَ عَنْ عَلِیِّ بْنِ مُسْہِرٍ۔ [صحیح]
(١٦٤٧٦) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ احد کے دن مشرکین شکست کھا گئے تو ابلیس چیخا : اے اللہ کے بندو ! پیچھے دیکھو مسلمان سمجھ نہ سکے اور آپس میں پیچھے مڑ کر مارنا شروع کردیا۔ حذیفہ بن یمان نے اپنے والد کو دیکھا اور چیخنے لگے : میرا باپ میرا باپ ! لیکن اللہ کی قسم ! وہ نہیں رکے اور اسے قتل کردیا تو حذیفہ نے کہا : اللہ تمہیں معاف فرمائے۔ عروہ کہتے ہیں کہ ہمیشہ حذیفہ میں خیر باقی رہی یہاں تک کہ وہ اللہ سے جا ملے۔