(۱۶۴۷۷) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّہِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ عَتَّابٍ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِاللَّہِ بْنِ الْمُغِیرَۃِ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ عُقْبَۃَ عَنْ عَمِّہِ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ قَالَ الْیَمَانُ أَبُو حُذَیْفَۃَ وَاسْمُہُ حُسَیْلُ بْنُ جُبَیْرٍ حَلِیفٌ لَہُمْ مِنْ بَنِی عَبْسٍ أَصَابَہُ الْمُسْلِمُونَ زَعَمُوا فِی الْمَعْرَکَۃِ لاَ یَدْرُونَ مَنْ أَصَابَہُ فَتَصَدَّقَ حُذَیْفَۃُ بِدَمِہِ عَلَی مَنْ أَصَابَہُ۔
قَالَ مُوسَی بْنُ عُقْبَۃَ قَالَ ابْنُ شِہَابٍ قَالَ عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ أَخْطَأَ بِہِ الْمُسْلِمُونَ یَوْمَئِذٍ فَتَوَشَّقُوہُ بِأَسْیَافِہِمْ یَحْسَبُونَہُ مِنَ الْعَدُوِّ وَإِنَّ حُذَیْفَۃَ لَیَقُولُ أَبِی أَبِی فَلَمْ یَفْقَہُوا قَوْلَہُ حَتَّی فَرَغُوا مِنْہُ قَالَ حُذَیْفَۃُ : یَغْفِرُ اللَّہُ لَکُمْ وَہُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِینَ قَالَ فَوَدَاہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَزَادَتْ حُذَیْفَۃَ عِنْدَہُ خَیْرًا۔ [صحیح]
(١٦٤٧٧) عقبہ بن موسیٰ کہتے ہیں کہ یمان حضرت حذیفہ کے والد تھے اور ان کا نام سحسیل بن جبیر تھا ، یہ بنو عبس کے حلیف تھے۔ جنگ میں مسلمانوں کے ہاتھوں شہید ہوگئے، پتہ نہیں چلا کسی نے شہید کیا تھا تو حضرت حذیفہ نے ان کا خون معاف کردیا۔
موسیٰ بن عقبہ نے کہا کہ عروہ بن زبیر فرماتے ہیں کہ مسلمان اس دن خطا کھا گئے اور ان کی تلواریں آپس میں ٹکرانے لگیں دشمن سمجھ کر۔ حضرت حذیفہ چیخے : میرے والد میرے والد لیکن کسی نے نہ سنا اور شہید کردیا تو فرمایا : اللہ تمہیں معاف کرے وہ بہت بڑا رحم کرنے والا ہے۔ تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسے دیت ادا کی۔