(۱۶۵۳۸) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ إِمْلاَئً وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِی حَامِدٍ الْمُقْرِئُ قِرَائَ ۃً عَلَیْہِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاکِرٍ حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا وُہَیْبٌ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِی ہِنْدٍ حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَۃَ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : لَمَّا تُوُفِّیَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- قَامَ خُطَبَاء ُ الأَنْصَارِ فَجَعَلَ الرَّجُلُ مِنْہُمْ یَقُولُ یَا مَعْشَرَ الْمُہَاجِرِینَ إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَانَ إِذَا اسْتَعْمَلَ رَجُلاً مِنْکُمْ قَرَنَ مَعَہُ رَجُلاً مِنَّا فَنُرَی أَنْ یَلِیَ ہَذَا الأَمْرَ رَجُلاَنِ أَحَدُہُمَا مِنْکُمْ وَالآخَرُ مِنَّا قَالَ فَتَتَابَعَتْ خُطَبَاء ُ الأَنْصَارِ عَلَی ذَلِکَ فَقَامَ زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَانَ مِنَ الْمُہَاجِرِینَ وَإِنَّ الإِمَامَ یَکُونُ مِنَ الْمُہَاجِرِینَ وَنَحْنُ أَنْصَارُہُ کَمَا کُنَّا أَنْصَارَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَامَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ جَزَاکُمُ اللَّہُ خَیْرًا یَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ وَثَبَّتَ قَائِلَکُمْ ثُمَّ قَالَ : أَمَّا لَوْ فَعَلْتُمْ غَیْرَ ذَلِکَ لَمَا صَالَحْنَاکُمْ ثُمَّ أَخَذَ زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ بِیَدِ أَبِی بَکْرٍ فَقَالَ ہَذَا صَاحِبُکُمْ فَبَایِعُوہُ ثُمَّ انْطَلَقُوا فَلَمَّا قَعَدَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَلَی الْمِنْبَرِ نَظَرَ فِی وُجُوہِ الْقَوْمِ فَلَمْ یَرَ عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَسَأَلَ عَنْہُ فَقَامَ نَاسٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَأَتَوْا بِہِ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : ابْنَ عَمِّ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَخَتَنَہُ أَرَدْتَ أَنْ تَشُقَّ عَصَا الْمُسْلِمِینَ۔ فَقَالَ : لاَ تَثْرِیبَ یَا خَلِیفَۃَ رَسُولِ اللَّہِ فَبَایَعَہُ ثُمَّ لَمْ یَرَ الزُّبَیْرَ بْنَ الْعَوَّامِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَسَأَلَ عَنْہُ حَتَّی جَاء ُوا بِہِ فَقَالَ : ابْنَ عَمَّۃِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَحَوَارِیَّہُ أَرَدْتَ أَنْ تَشُقَّ عَصَا الْمُسْلِمِینَ فَقَالَ مِثْلَ قَوْلِہِ : لاَ تَثْرِیبَ یَا خَلِیفَۃَ رَسُولِ اللَّہِ فَبَایَعَاہُ۔ [صحیح]
(١٦٥٣٨) ابو سعید الخدری (رض) سے منقول ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فوت ہوئے تو انصار کے خطباء کھڑے ہوئے۔ ان میں سے ایک کہنے لگا : اے مہاجرین کی جماعت ! جب بھی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کوئی عامل بنایا تو اس کے ساتھ ایک آدمی ہم میں سے بھی مقرر فرمایا، لہٰذا اب امیر ایک ہم میں سے ایک تم میں سے ہوگا۔ سارے خطباء نے اس کی تائید کی تو زید بن ثابت کھڑے ہوگئے اور فرمایا : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خود مہاجرین میں سے تھے اور امام بھی مہاجرین سے ہوگا اور ہم سب جس طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مدد کیا کرتے تھے اس کی بھی مدد کریں گے۔ ابوبکر کھڑے ہوئے اور فرمایا : تمہیں اللہ بہترین بدلہ دے اے انصاریو ! تمہارے خطیبوں کو ثابت قدم رکھے اگر تم دوسرا معاملہ ہمارے ساتھ کرو تو ہم صلح کرلیں اور زید بن ثابت کا ہاتھ پکڑا اور کہا : اس کی بیعت کرلو، پھر ابوبکر منبر پر آ کر بیٹھ گئے، دیکھا قوم میں علی (رض) نہیں ہیں۔ پوچھا : وہ کہاں ہیں ؟ انھیں بلایا گیا تو ابوبکر (رض) نے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چچا کے بیٹے اور آپ کے داماد ہیں۔ میرا ارادہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی باگ دوڑ تمہیں تھماؤں۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا : کوئی حرج نہیں اور علی نے آپ کی بیعت کرلی۔ پھر زبیر بن عوام کو دیکھا ، وہ نظر نہ آئے۔ پوچھا تو ان کو بلایا گیا اور انھوں نے بھی حضرت علی والی بات کہی اور دونوں نے ابوبکر کی بیعت کرلی۔