(۱۶۵۷۲) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّکَّرِیُّ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَی حَفْصَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فَقَالَتْ : أَعَلِمْتَ أَنَّ أَبَاکَ غَیْرُ مُسْتَخْلِفٍ؟ قَالَ قُلْتُ : کَلاَّ ۔ قَالَتْ : إِنَّہُ فَاعِلٌ۔ فَحَلَفْتُ أَنْ أُکَلِّمَہُ فِی ذَلِکَ فَخَرَجْتُ فِی سَفَرٍ أَوْ قَالَ فِی غَزَاۃٍ فَلَمْ أُکَلِّمْہُ فَکُنْتُ فِی سَفَرِی کَأَنَّمَا أَحْمِلُ بِیَمِینِی جَبَلاً حَتَّی قَدِمْتُ فَدَخَلْتُ عَلَیْہِ فَجَعَلَ یُسَائِلُنِی فَقُلْتُ لَہُ إِنِّی سَمِعْتُ النَّاسَ یَقُولُونَ مَقَالَۃً فَآلَیْتُ أَنْ أَقُولَہَا لَکَ زَعَمُوا أَنَّکَ غَیْرُ مُسْتَخْلِفٍ وَقَدْ عَلِمْتُ أَنَّہُ لَوْ کَانَ لَکَ رَاعِی غَنَمٍ فَجَائَ کَ وَقَدْ تَرَکَ رِعَایَتَہُ رَأَیْتَ أَنْ قَدْ ضَیَّعَ فَرِعَایَۃُ النَّاسِ أَشَدُّ قَالَ فَوَافَقَہُ قَوْلِی فَأَطْرَقَ مَلِیًّا ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ فَقَالَ : إِنَّ اللَّہَ یَحْفَظُ دِینَہُ وَإِنْ لاَ أَسْتَخْلِفْ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- لَمْ یَسْتَخْلِفْ وَإِنْ أَسْتَخْلِفْ فَإِنَّ أَبَا بَکْرٍ قَدِ اسْتَخْلَفَ ۔ قَالَ : فَمَا ہُوَ إِلاَّ أَنْ ذَکَرَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- وَأَبَا بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَعَلِمْتُ أَنَّہُ لاَ یَعْدِلُ بِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- أَحَدًا وَأَنَّہُ غَیْرُ مُسْتَخْلِفٍ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ وَغَیْرِہِ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ مَعْمَرٍ۔ [صحیح]
(١٦٥٧٢) ابن عمر فرماتے ہیں کہ میں حضرت حفصہ کے پاس آیا، اس نے کہا کہ کیا تمہیں پتہ ہے ابو جی کو خلیفہ بنادیا گیا ہے اور وہ اس پر راضی بھی نہیں تھے ؟ کہا : ہرگز نہیں، کہنے لگیں : ایسا ہونے والا ہے۔ میں نے قسم اٹھائی کہ اس پر میں ضرور ان سے بات کروں گا۔ پھر میں کسی سفر یا غزوہ میں چلا گیا، بات نہ کرسکا۔ جب واپس لوٹا تو اپنے والد سے ملا اور وہ مجھ سے سوالات کرنے لگے۔ میں نے کہا : میں نے لوگوں سے کچھ سنا ہے، میں وہ آپ کو نہیں کہہ سکتا۔ ان کا خیال ہے کہ آپ کی رضا مندی کے بغیر آپ کو خلیفہ بنایا گیا ہے اور میں جانتا ہوں اگر آپ کی بکریوں کا کوئی چرواہا ہوتا اور وہ آپ کے پاس آتا اور اپنی رعایت کو چھوڑ دیتا کہ اس سے وہ ضائع ہوگئی ہے اور لوگوں کی نگرانی تو اس سے بھی زیادہ سخت ہے۔ فرماتے ہیں : انھوں نے میری بات کی موافقت کی تھوڑی دیر ٹھہرے، پھر سر اٹھایا اور فرمایا : اللہ نے اپنے دین کی حفاظت کرنی ہے۔ اگر میں نے خلافت طلب نہیں کی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی تو طلب نہیں کی تھی۔ اگر میں خلیفہ بنا ہوں تو ابوبکر بھی نے خلیفہ بنے تھے۔ ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ابوبکر کا ہی ذکر کرتے رہے تو میں سمجھ گیا کہ غیر خلیفہ کی صورت میں کوئی آپ سے عدل نہیں کرسکتا۔