hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 16585

.

سنن البيهقي

16585
Sunan Al Bayhaqi
(۱۶۵۷۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ قَالاَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ حُصَیْنٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَیْمُونٍ فِی قِصَّۃِ مَقْتَلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ فَقَالُوا : أَوْصِ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ اسْتَخْلِفْ۔ فَقَالَ : مَا أَحَدٌ أَحَقَّ بِہَذَا الأَمْرِ مِنْ ہَؤُلاَئِ النَّفَرِ أَوِ الرَّہْطِ الَّذِینَ تُوُفِّیَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَہُوَ عَنْہُمْ رَاضٍ فَسَمَّی عَلِیًّا وَعُثْمَانَ وَالزُّبَیْرَ وَطَلْحَۃَ وَسَعْدًا وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ وَقَالَ : لِیَشْہَدْکُمْ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ وَلَیْسَ لَہُ مِنَ الأَمْرِ شَیْئٌ کَالتَّعْزِیَۃِ لَہُ وَقَالَ : فَإِنْ أَصَابَتِ الإِمْرَۃُ سَعْدًا فَہُوَ ذَاکَ وَإِلاَّ فَلْیَسْتَعِنْ بِہِ أَیُّکُمْ مَا أُمِّرَ فَإِنِّی لَمْ أَعْزِلْہُ مِنْ عَجْزٍ وَلاَ خِیَانَۃٍ۔ وَقَالَ : أُوصِی الْخَلِیفَۃَ مِنْ بَعْدِی بِالْمُہَاجِرِینَ الأَوَّلِینَ أَنْ یَعْلَمَ لَہُمْ حَقَّہُمْ وَیَحْفَظَ لَہُمْ حُرْمَتَہُمْ وَأُوصِیہِ بِالأَنْصَارِ الَّذِینَ تَبَوَّء ُوا الدَّارَ وَالإِیمَانَ مِنْ قَبْلِہِمْ أَنْ یُقْبَلَ مِنْ مُحْسِنِہِمْ وَأَنْ یُعْفَی عَنْ مُسِیئِہِمْ وَأُوصِیہِ بِأَہْلِ الأَمْصَارِ خَیْرًا فَإِنَّہُمْ رِدْء ُ الإِسْلاَمِ وَجُبَاۃُ الأَمْوَالِ وَغَیْظُ الْعَدُوِّ أَنْ لاَ یُؤْخَذَ مِنْہُمْ إِلاَّ فَضْلُہُمْ عَنْ رِضَاہُمْ وَأُوصِیہِمْ بِالأَعْرَابِ خَیْرًا فَإِنَّہُمْ أَصْلُ الْعَرَبِ وَمَادَّۃُ الإِسْلاَمِ أَنْ یُؤْخَذَ مِنْ حَوَاشِی أَمْوَالِہِمْ فَیُرَدُّ عَلَی فُقَرَائِہِمْ وَأُوصِیہِ بِذِمَّۃِ اللَّہِ وَذِمَّۃِ رَسُولِہِ أَنْ یُوفَی لَہُمْ بِعَہْدِہِمْ وَأَنْ یُقَاتَلَ مِنْ وَرَائِہِمْ وَلاَ یُکَلَّفُوا إِلاَّ طَاقَتَہُمْ۔ فَلَمَّا قُبِضَ خَرَجْنَا بِہِ فَانْطَلَقْنَا نَمْشِی وَذَکَرَ الْحَدِیثَ فِی دَفْنِہِ قَالَ فَلَمَّا فُرِغَ مِنْ دَفْنِہِ وَرَجَعُوا اجْتَمَعَ ہَؤُلاَئِ الرَّہْطِ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : اجْعَلُوا أَمْرَکُمْ إِلَی ثَلاَثَۃٍ مِنْکُمْ۔ قَالَ الزُّبَیْرُ : قَدْ جَعَلْتُ أَمْرِی إِلَی عَلِیٍّ۔ وَقَالَ طَلْحَۃُ : قَدْ جَعَلْتُ أَمْرِی إِلَی عُثْمَانَ وَقَالَ سَعْدٌ : قَدْ جَعَلْتُ أَمْرِی إِلَی عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : أَیُّکُمَا یَبْرَأُ مِنْ ہَذَا الأَمْرِ فَیَجْعَلُہُ إِلَیَّ وَاللَّہُ عَلَیَّ وَالإِسْلاَمُ لَیَنْظُرَنَّ أَفْضَلَہُمْ فِی نَفْسِہُ وَلَیَحْرِصَنَّ عَلَی صَلاَحِ الأُمَّۃِ ؟ قَالَ : فَأُسْکِتَ الشَّیْخَانِ۔ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : أَفَتَجْعَلُونَہُ إِلَیَّ وَاللَّہُ عَلَیَّ أَنْ لاَ آلُو عَنْ أَفْضَلِکُمْ؟ فَقَالاَ : نَعَمْ۔ قَالَ : فَأَخَذَ بِیَدِ أَحَدِہِمَا فَقَالَ لَکَ مِنْ قَرَابَۃِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَالْقِدَمِ فِی الإِسْلاَمِ مَا قَدْ عَلِمْتَ وَاللَّہُ عَلَیْکَ لَئِنْ أَنَا أَمَّرْتُکَ لَتَعْدِلَنَّ وَلَئِنْ أَنَا أَمَّرْتُ عُثْمَانَ لَتَسْمَعَنَّ وَلَتُطِیعَنَّ۔ ثُمَّ خَلاَ بِالآخَرِ فَقَالَ لَہُ مِثْلَ ذَلِکَ فَلَمَّا أَخَذَ الْمِیثَاقَ قَالَ : ارْفَعْ یَدَکَ یَا عُثْمَانُ فَبَایَعَہُ وَبَایَعَ لَہُ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا وَوَلَجَ أَہْلُ الدَّارِ فَبَایَعُوہُ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُوسَی بْنِ إِسْمَاعِیلَ۔ [صحیح]
(١٦٥٧٩) عمرو بن میمون حضرت عمر کے قتل کے قصے کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ لوگوں نے حضرت عمر (رض) سے کہا کہ خلیفہ نامزد کردیں تو فرمایا : ان صحابہ سے بڑھ کر اس فیصلے کا حق دار کوئی نہیں اور علی، عثمان، زبیر، طلحہ، سعد، عبدالرحمن بن عوف (رض) کے نام لیے۔ عبداللہ بن عمر بھی اگر حاضر ہیں تو ان کے لیے معاملے سے کچھ نہیں، اگر سعد امیر بن جائیں تو بہتر ہے اگر نہیں تو اپنے مشورے سے مقرر کرلو۔ میں کسی عجز یا خیانت سے اسے معزول نہیں کروں گا اور کہا : جو بھی میرے بعد خلیفہ بنے میں اسے وصیت کرتا ہوں کہ مہاجرین کے حق کو پہچانے، ان کی عزت اور مقام ومرتبے کا خیال رکھے اور انصار کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کہ گھر اور ایمان والے ہیں ان کے محسن سے قبول کرے اور مسیء سے درگزر کرے اور تمام علاقے والوں کے لیے خیر کی وصیت کرتا ہوں؛ کیونکہ وہ اسلام کے مدد گار، مال کو جمع کرنے والے اور دشمن کا غضب ہیں اور ان سے ان کا زائد مال ہی ان کی رضا مندی سے لیا جائے اور دیہاتیوں کے بارے میں خیر کی وصیت کرتا ہوں؛ کیونکہ وہ اصل عرب ہیں۔ اسلام کا مادہ ہیں۔ ان کے زائد مالوں کو لے کر انہی کے فقراء پر لوٹا دیا جائے اور میں اسے اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذمہ کی وصیت کرتا ہوں کہ ان کے عہد کو پورا کرے۔ کسی کو اس کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف نہ دیں۔ جب فوت ہوگئے تو ہم نکلے اور چلے اور پھر آگے ان کے دفن تک مکمل روایت بیان فرمائی۔ پھر فرماتے ہیں کہ ان کو دفن کرنے کے بعد واپس آئے تو یہ گروہ جمع ہوگیا تو عبدالرحمن (رض) کہنے لگے : اپنے معاملات کسی بھی تین کو سونپ دو ، زبیر (رض) نے حضرت علی (رض) طلحہ (رض) نے عثمان (رض) اور سعد (رض) نے عبدالرحمن (رض) کو چنا تو عبدالرحمن (رض) کہنے لگے : اب آپ میں سے کوئی اور اس کو چھوڑنا چاہتا ہے تاکہ وہ زیادہ حریص ہو اصلح امت پر ؟ تو دونوں شیخان خاموش رہے تو عبدالرحمن (رض) نے کہا : میں پیچھے ہٹتا ہوں لیکن کیا میں فیصلہ کروں ؟ کہا : ہاں۔ تو آپ نے ان میں سے ایک کا ہاتھ پکڑا اور کہا : آپ کی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے قرابت اور تقدیم اسلام ہے اگر میں آپ کو امیر بنا دوں آپ ضرور انصاف کریں گے، لیکن میں عثمان (رض) کو امیر بناتا ہوں تو حضرت عثمان (رض) کو کہا : اپنا ہاتھ اٹھاؤ، خود بیعت کی اور حضرت علی (رض) نے بھی بیعت کرلی اور اہل الدار بھی آئے، انھوں نے بھی بیعت کرلی۔