(۱۶۵۸۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ الْحِمْصِیُّ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَیْبِ بْنِ أَبِی حَمْزَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنِ الزُّہْرِیِّ أَخْبَرَنَا سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ قَالَ : دَخَلَ عَلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ حِینَ نَزَلَ بِہِ الْمَوْتُ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ وَعَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ وَالزُّبَیْرُ بْنُ الْعَوَّامِ وَسَعْدُ بْنُ أَبِی وَقَّاصٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ وَکَانَ طَلْحَۃُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ غَائِبًا بِأَرْضِہِ بِالسَّرَاۃِ فَنَظَرَ إِلَیْہِمْ عُمَرُ سَاعَۃً ثُمَّ قَالَ إِنِّی قَدْ نَظَرْتُ لَکُمْ فِی أَمْرِ النَّاسِ فَلَمْ أَجِدْ عِنْدَ النَّاسِ شِقَاقًا إِلاَّ أَنْ یَکُونَ فِیکُمْ شَیْئٌ فَإِنْ کَانَ شِقَاقٌ فَہُوَ مِنْکُمْ وَإِنَّ الأَمْرَ إِلَی سِتَّۃٍ إِلَی عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ وَعَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَالزُّبَیْرِ بْنِ الْعَوَّامِ وَطَلْحَۃَ وَسَعْدٍ ثُمَّ إِنَّ قَوْمَکُمْ إِنَّمَا یُؤَمِّرُونَ أَحَدَکُمْ أَیُّہَا الثَّلاَثَۃُ فَإِنْ کُنْتَ عَلَی شَیْئٍ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ یَا عُثْمَانُ فَلاَ تَحْمِلَنَّ بَنِی أَبِی مُعَیْطٍ عَلَی رِقَابِ النَّاسِ وَإِنْ کُنْتَ عَلَی شَیْئٍ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ یَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ فَلاَ تَحْمِلَنَّ أَقَارِبَکَ عَلَی رِقَابِ النَّاسِ وَإِنْ کُنْتَ عَلَی شَیْئٍ یَا عَلِیُّ فَلاَ تَحْمِلَنَّ بَنِی ہَاشِمٍ عَلَی رِقَابِ النَّاسِ قُومُوا فَتَشَاوَرُوا وَأَمِّرُوا أَحَدَکُمْ فَقَامُوا یَتَشَاوَرُونَ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ فَدَعَانِی عُثْمَانُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مَرَّۃً أَوْ مَرَّتَیْنِ لِیُدْخِلَنِی فِی الأَمْرِ وَلَمْ یُسَمِّنِی عُمَرُ وَلاَ وَاللَّہِ مَا أُحِبُّ أَنِّی کُنْتُ مَعَہُمْ عِلْمًا مِنْہُ بِأَنَّہُ سَیَکُونُ مِنْ أَمْرِہِمْ مَا قَالَ أَبِی وَاللَّہِ لَقَلَّمَا سَمِعْتُہُ حَرَّکَ شَفَتَیْہِ بِشَیْئٍ قَطُّ إِلاَّ کَانَ حَقًّا فَلَمَّا أَکْثَرَ عُثْمَانُ دُعَائِی قُلْتُ أَلاَ تَعْقِلُونَ تُؤَمِّرُونَ وَأَمِیرُ الْمُؤْمِنِینَ حَیٌّ فَوَاللَّہِ لَکَأَنَّمَا أَیْقَظْتُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مِنْ مَرْقَدٍ فَقَالَ عُمَرُ أَمْہِلُوا فَإِنْ حَدَثَ بِی حَدَثٌ فَلْیُصَلِّ لِلنَّاسِ صُہَیْبٌ مَوْلَی بَنِی جُدْعَانَ ثَلاَثَ لَیَالٍ ثُمَّ اجْمَعُوا فِی الْیَوْمِ الثَّالِثِ أَشْرَافَ النَّاسِ وَأُمَرَائَ الأَجْنَادِ فَأَمِّرُوا أَحَدَکُمْ فَمَنْ تَأَمَّرَ عَنْ غَیْرِ مَشُورَۃٍ فَاضْرِبُوا عُنُقَہُ۔ [حسن]
(١٦٥٨٠) سالم بن عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ والد محترم کی موت کے وقتحضرت عثمان، علی، عبدالرحمن بن عوف، زبیر اور سعد بن ابی وقاص (رض) حضرت عمر (رض) کے پاس آئے۔ طلحہ بن عبید اللہ وہاں حاضر نہ تھے۔ حضرت عمر نے چند گھڑیاں انھیں دیکھا پھر فرمایا : میں تم سے ایک معاملے میں مشورہ کرتا ہوں، لوگوں میں اس میں کوئی مخالفت نہیں۔ اگر مخالفت ہوئی تو تمہاری طرف سے ہوگی اور امارت کا معاملہ ان چھ صحابہ کے سامنے پیش کردیا۔ تمہاری قومیں تم تین میں سے کسی کو خلیفہ بنائیں گی۔ اگر عثمان تمہیں امارت ملے تو ابو معیط کو لوگوں پر امیر نہ بنانا، اگر عبدالرحمن آپ امیر بنیں تو اپنے اقرباء کو امیر مت بنانا، اگر علی آپ امیر بنیں تو بنو ہاشم میں کسی کو عادل نہ بنانا لوگوں سے مشورہ کرنا، پھر ان پر امام مقرر کرنا۔ حضرت عثمان نے ٢ یا ٣ مرتبہ مجھے بلایا کہ مجھے بھی مشورہ میں شریک کرلیں، لیکن حضرت عمر نے میرا نام نہیں لیا اور واللہ میں ان کے ساتھ ملنا بھی نہیں چاہتا تھا اور نہ میرے والد نے کہا۔ واللہ میں نے بہت ہی کم ان سے سنا کہ انھوں نے لبوں کو حرکت دی ہو اور حق کے علاوہ کوئی اور بات ان کے منہ سے نکلی ہو، جب حضرت عثمان نے بار بار مجھے بلایا تو میں نے کہا : کیا تمہیں سمجھ نہیں کہ تم امارت طلب کر رہے ہو اور امیر المؤمنین زندہ ہیں۔ واللہ ! گویا میں نے حضرت عمر کو ان کی موت سے اٹھا دیا تو عمر فرمانے لگے : ٹھہرو، جب میں فوت ہو جاؤں تو صہیب جو بنو جدعان کے مولیٰ ہیں تین راتوں تک لوگوں کو نماز پڑھائیں، تین دن کے بعدلوگوں کے سربراہان اور قبیلوں کے امراء کو جمع کرنا اور امارت کے لیے مشورہ کرنا اور جو بغیر مشورہ کے امیر بنے اس کی گردن اڑا دینا۔